ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کو پیش کی گئی ایران کی سات روزہ تجویز اب بھی برقرار ہے، جس کے تحت امریکی شرائط تسلیم کیے جانے کی صورت میں چھٹے روز آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی جبکہ ساتویں روز مذاکرات شروع ہوجائیں گے۔
بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے 52ویں اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کو علاقائی تنازعات کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔
❗️⚡️💬 The Organization of Islamic Cooperation (OIC) should play a more serious role in resolving differences, Minister of Foreign Affairs of Iran Abbas Araghchi stated, Report informs referring to the Tasnim News Agency.
He expressed hope that the organization will take a more serious approach to the issues facing the Islamic world.
“We expect the organization to play a more constructive role in eliminating differences among Islamic countries,” he said.
The head of the Iranian Foreign Ministry noted that Iraq’s successful chairmanship of the organization could yield important results.
#report #reportaz #reportnewsaz #news #breakingnews #iran #mfa #minister
— Report News Agency (@reportaznews) October 18, 2026
انہوں نے یمن کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی اجلاس میں اس معاملے پر سنجیدہ گفتگو ہوئی، جس میں سعودی عرب سمیت مختلف ممالک نے اپنے مؤقف پیش کیے۔
یمن سے متعلق قرارداد میں منصفانہ اور متوازن مؤقف اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کسی غیر متوازن قرارداد کی توثیق نہیں کرسکے گا۔ اور ایران کسی بھی صورت دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا وہ اپنے دفاع کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے۔
دوسری جانب عباس عراقچی نے عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے بھی ملاقات کی، جس میں سعودی عرب اور یمن کے تنازع سمیت خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں یمن کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
REPORT: Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi told Iraqi Prime Minister Ali al-Zaidi that the United States repeatedly disrupted diplomatic efforts to end regional conflicts by breaking agreements and relying on force.
#Iran #Iraq #US https://t.co/5sy21z3h2G
— Hoot Republic (@HootRepublic) October 18, 2026
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ مغربی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ اسرائیل کا قبضہ اور اس کی توسیع پسندانہ پالیسیاں ہیں۔



