پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد دنیا بھر سے غربت اور محرومی کا خاتمہ کرنا، انسانی حقوق اور انسانی وقار کا تحفظ کرنا ہے۔
غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر صدر مملکت آصف زرداری نے اپنے پیغام میں ملک سے غربت ختم کرنے کیلئے مستقل اور ٹھوس اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غربت کے خاتمے کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور تعلیم، صحت کی سہولتوں اور مناسب رہائش تک رسائی بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کرنا ضروری ہے۔
Message of President Asif Ali Zardari on the International Day for the Eradication of Poverty (17 October 2026)
On the International Day for the Eradication of Poverty, I emphasise the importance of protecting vulnerable families from economic hardship and ensuring that every citizen has access to basic necessities and opportunities for a better life. Addressing poverty requires sustained efforts to strengthen social protection, expand employment opportunities and improve access to education, healthcare and adequate housing.
The Benazir Income Support Programme (BISP) has been playing an important role in Pakistan’s efforts to alleviate poverty by providing financial assistance to vulnerable families, particularly women. It has extended social protection to households facing economic hardship and helped them meet essential needs. Strengthening such support, alongside measures that enable families to improve their livelihoods, remains important to reducing poverty over the long term.
This year’s United Nations theme, “Safe Homes for All,” has particular significance for Pakistan. The devastating floods of 2022 left countless families without homes, livelihoods and the modest possessions they had accumulated over generations. I cannot forget the suffering of those families, particularly the elderly, women and children, who suddenly found themselves without a roof over their heads.
I take particular satisfaction in the efforts of the Government of Sindh, which launched the Sindh People’s Housing for Flood Affectees (SPHF) programme to construct 2.1 million climate-resilient homes for flood-affected families. Hundreds of thousands of homes have already been completed, while reconstruction continues across the province.
Development in areas such as Tharparkar must be assessed by the improvements it brings to local communities. Access to clean drinking water, education, healthcare and reliable livelihood opportunities can make a practical difference to families facing economic hardship. Development must translate into better living conditions and give people greater opportunities to support themselves and their families.
The land reforms and labour measures introduced by Shaheed Zulfikar Ali Bhutto reflected an effort to address economic disparities and improve the position of workers and tenants. This history also reminds us of the importance of ensuring that the benefits of economic development reach ordinary citizens.
For families struggling to meet household expenses, being able to keep children in school, obtain necessary medical care and afford adequate housing can make a decisive difference. Our efforts to reduce poverty must remain attentive to these everyday pressures and provide practical support to those who need it most.
On this day, I call for continued efforts to reduce poverty through effective social protection, decent employment and fair access to essential services. Every family should have a genuine opportunity to improve its circumstances and build a more secure future.
My dream is of a Pakistan where no child goes to bed hungry, no mother fears for her family’s future, no elderly person is abandoned in hardship, and no young person is denied the opportunity to build a better life.
——
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) October 16, 2026
بین الاقوامی امدادی تنظیم ایکشن اگینسٹ ہنگر کی جاری کردہ نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو عالمی بھوک کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ موسمیاتی آفات، معاشی مشکلات، نقل مکانی اور انسانی امداد کے لیے کم ہوتے وسائل نے کمزور طبقات کو غذائی عدم تحفظ کی مزید سنگین صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔
عالمی یومِ خوراک کے موقع پر جاری ہونے والی رپورٹ ”دنیا کے 10 بڑے غذائی بحران“ میں خبردار کیا گیا ہے کہ معاشی بحالی کی کوششوں اور بعض معاشی اشاریوں میں بہتری کے باوجود پاکستان میں 2026 کے دوران ایک کروڑ 6 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہو گی۔
ایک دہائی کے دوران شدید بھوک کے شکار افراد کی تعداد دوگنی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 17 کروڑ 70 لاکھ افراد ان 10 ممالک میں رہتے ہیں جہاں بھوک کا بحران سب سے زیادہ سنگین ہے، گزشتہ ایک دہائی کے دوران شدید بھوک کے شکار افراد کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ 47 ممالک میں 26 کروڑ 60 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غذائی بحران سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں نائیجیریا، کانگو، سوڈان، یمن، افغانستان، میانمار، بنگلہ دیش، پاکستان، جنوبی سوڈان اور شام شامل ہیں۔
پاکستان میں مسلسل غربت، خوراک کی بلند قیمتیں، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی، روزگار کے محدود مواقع اور گھریلو آمدنی میں کمی کے باعث خاندانوں کی قوتِ خرید مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ زرعی اجناس کی ناموافق قیمتوں اور مجموعی معاشی عدم استحکام نے بھی لوگوں کے ذرائع معاش کو نقصان متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کے لیے مناسب خوراک کا حصول مشکل ہو گیا ہے۔
Millions are projected to remain hungry into the next decade as conflict, climate change and poverty continue to drive food insecurity — and vast amounts of food continue to go to waste every day https://t.co/G9tTl3a9gz
— TRT World (@trtworld) October 16, 2026
رپورٹ کے مطابق انسانی امداد کی ضروریات دستیاب وسائل سے بڑھنے کے باعث کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے خاندان مشکلات سے نمٹنے کے لیے ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں جو طویل مدت میں ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان میں خوراک کا استعمال کم کرنا، آمدنی پیدا کرنے والے اثاثے فروخت کرنا اور مالی دباؤ کے باعث بچوں کو اسکول سے نکالنا شامل ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ اقدامات وقتی طور پر مالی مشکلات کم کر سکتے ہیں تاہم ان سے غربت میں اضافہ، بچوں کی تعلیم اور غذائیت متاثر ہونے اور مستقبل کے بحرانوں سے نکلنے کے لیے خاندانوں کی صلاحیت کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔
صحت کی سہولیات، غذائیت سے متعلق خدمات، صاف پانی، نکاسی و صفائی کے نظام اور سماجی تحفظ تک محدود رسائی نے بھی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ دیہی اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں صورتِ حال زیادہ تشویشناک ہے۔ مسلسل غربت اور شدید غذائی قلت انسانی امداد کی بڑھتی ہوئی ضروریات کی اہم وجوہات ہیں، جبکہ امدادی خدمات اور ذرائع معاش کے پروگراموں میں کٹوتیوں سے مقامی آبادیوں کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت مزید متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کی بڑی وجوہات
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آفات غذائی عدم تحفظ کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ بار بار آنے والے سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی کی لہریں، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب اور مون سون کی بارشوں کے غیر متوقع انداز نے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، زرعی پیداوار کم کی اور مویشیوں پر انحصار کرنے والے خاندانوں کے ذرائع معاش کو متاثر کیا ہے۔
فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات اور طویل خشک موسم کے باعث خاندانوں کا خوراک کے لیے منڈیوں پر انحصار بڑھ گیا ہے لیکن بہت سے خاندانوں کی قوتِ خرید محدود ہونے کے باعث مناسب خوراک خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔ ملک کے کئی اضلاع میں طویل خشک سالی کی صورتِحال برقرار ہے، جس سے زرعی پیداوار اور دیہی آمدنی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمی مشکلات مخصوص ادوار میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔ دسمبر 2025 سے مارچ 2026 تک کے عرصے کو ایسا دور قرار دیا گیا جس میں غذائی عدم تحفظ کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ تھا۔ اس دوران بعض علاقوں میں طویل سرد موسم اور شدید برف باری کے باعث منڈیوں اور ضروری وسائل تک رسائی محدود ہونے کا خدشہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق بدامنی اور علاقائی کشیدگی پاکستان کی پہلے سے غیر مستحکم غذائی صورتِ حال پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں بدامنی کے باعث لوگوں کے ذرائع معاش متاثر ہو رہے ہیں، منڈیوں تک رسائی محدود اور انسانی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی آفات، معاشی مشکلات، محدود قوتِ خرید اور امدادی وسائل میں کمی کے باعث پاکستان کے کمزور طبقات کو غذائی عدم تحفظ کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔


