عالمی بینک نے پاکستان میں ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹل سروسز سے متعلق تقریباً 67 کروڑ ڈالر مالیت کے دو قرضہ پروگراموں کو “درمیانے درجے تک تسلی بخش” قرار دیا ہے، تاہم ان کی کامیابی کو لاحق خطرات کی بھی نشاندہی کی ہے۔ بینک کے مطابق سیاسی و انتظامی مسائل، معاشی غیر یقینی صورتِ حال اور ادارہ جاتی کمزوریاں ان پروگراموں پر مؤثر عملدرآمد کی راہ میں اہم رکاوٹیں ہیں۔
عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق دونوں پروگراموں کا مقصد پاکستان میں معاشی استحکام کو فروغ دینا، عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانا اور ٹیکس وصولیوں کا تناسب مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 15 فیصد تک پہنچانا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان پبلک ریسورسز فار انکلوسیو ڈویلپمنٹ (پی آر آئی ڈی) پروگرام کے تحت 70 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کو درمیانے درجے تک تسلی بخش قرار دیا گیا ہے، تاہم اس کے لیے مجموعی خطرات کی درجہ بندی “نمایاں” رکھی گئی ہے۔
اس پروگرام کا ایک اہم ہدف ٹیکس وصولیوں کا تناسب جون 2025ء کے 12.3 فیصد سے بڑھا کر جون 2030ء تک 15 فیصد کرنا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق سیاسی اور حکمرانی کے خطرات، معاشی صورت حال، ادارہ جاتی صلاحیت، مالیاتی نظم و ضبط اور ماحولیاتی و سماجی معیارات سے متعلق مسائل پروگرام پر عمل درآمد کو متاثر کر سکتے ہیں۔
فنڈز کے اجرا سے منسلک بیشتر اہداف پر نمایاں پیش رفت
رپورٹ کے مطابق پروگرام کے تحت 29 جون کو 16 کروڑ 45 لاکھ 20 ہزار ڈالر کی پیشگی رقم جاری کی گئی۔ عالمی بینک نے فنڈز کے اجرا سے منسلک بیشتر اہداف پر نمایاں پیش رفت کو سراہتے ہوئے اسے اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد میں مسلسل پیش رفت کا عکاس قرار دیا۔
عالمی بینک اور حکومت پاکستان منصوبے کی سرگرمیوں اور اخراجات کی تقسیم میں تبدیلیوں کے بعد تکنیکی معاونت کے انتظامات کو فعال بنانے اور منظوری کے مراحل میں تاخیر کے اثرات کم کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی گورننگ کونسل کی تشکیل اور چیف شماریات دان کی تقرری میں تاخیر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پروگرام کی شرائط کے تحت چیف شماریات دان کا عہدہ خالی نہیں رہنا چاہیے اور کسی موجودہ سرکاری افسر کو عارضی طور پر یہ ذمہ داری سونپنا بھی قابل قبول نہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ عہدہ 24 ستمبر 2026ء سے خالی ہے۔
کنیکٹڈ پنجاب پروگرام بھی خطرات سے دوچار
عالمی بینک نے پنجاب میں ڈیجیٹل خدمات کے فروغ کے لیے 7 کروڑ ڈالر کے کنیکٹڈ پنجاب پروگرام کو بھی سیاسی، انتظامی، معاشی اور مالیاتی خطرات کے باعث درمیانے سے نمایاں خطرات کی درجہ بندی دی ہے۔ یہ پروگرام موجودہ مالی سال کے آغاز سے مؤثر ہے اور جون 2031ء تک جاری رہے گا۔
بینک نے تسلیم کیا کہ اس پروگرام کو حکومت پنجاب کی اعلیٰ ترین سطح پر مضبوط حمایت حاصل ہے اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے اس کے لیے صوبائی حکومت کی منظوری حاصل کر لی ہے۔
پروگرام کے بنیادی اہداف میں براڈ بینڈ اور انٹرنیٹ رابطوں تک رسائی بڑھانا، ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی بہتر بنانا، مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے تیاری اور نقد کے بغیر لین دین کو فروغ دینا شامل ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق پروگرام کے اگلے مراحل میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے کمیٹی کا قیام، ڈیٹا گورننس فریم ورک، ذاتی معلومات کے تحفظ اور سائبر سکیورٹی کی حکمت عملیوں کو آگے بڑھانا شامل ہے۔
عالمی بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 19 دسمبر 2025ء کو پی آر آئی ڈی۔ ایم پی اے پروگرام کی منظوری دی تھی۔ اس پروگرام کا مقصد وفاقی اور صوبائی سطح پر اصلاحات کے ذریعے ملکی آمدن میں اضافہ، سرکاری اخراجات کے معیار کو بہتر بنانا اور ڈیٹا و ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔



