گزشتہ 3 سال کے دوران 18 لاکھ 71 ہزار 666 پاکستانی روزگار کیلئے بیرون ملک گئے جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی پروفیشنلز اور ماہرین تعلیم بھی شامل ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ سومرو کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل چوہدری سالک حسین نے تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کیں۔
سال 2024 کے اعداد و شمار
سال 2024 کے دوران کل 45830 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی روزگار کیلئے بیرون ملک گئے ۔
دستاویزات کے مطابق 45830 افراد میں سے منیجرز کی تعداد 23 ہزار 674 ریکارڈ کی گئی،انجینئرز8015،اکاؤنٹنٹس کی تعداد 4 ہزار 779 اور ڈاکٹروں کی تعداد 3 ہزار 625 رہی۔ اسی طرح ایک ہزار 729 اساتذہ جبکہ 2 ہزار 30 نرسز بیرون ملک روزگار کیلئے گئیں۔
بیرون ملک جانے والوں میں کمپیوٹر پروگرامرز کی تعداد ایک ہزار 351، سسٹم اینالسٹس کی 388، فارماسسٹس کی 155 اور ڈیٹا انکوڈر کی تعداد 84 رہی۔
مزید اعداد و شمار کے مطابق اعلیٰ ہنر یافتہ افراد کی تعداد ایک ہزار 616،مالیاتی تجزیہ کاروں کی 683، مشیر 836، بجٹ کنٹرولرز کی 64 اور پائلٹس کی تعداد 33 ریکارڈ کی گئی۔
سال 2025 کے اعداد و شمار
سال 2025 میں28 ہزار 726 اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد روزگار کیلئے بیرون ملک گئے۔
28 ہزار 726 اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں منیجرز کی تعداد 9 ہزار 562 رہی۔ انجینئرنگ کے شعبے میں 5 ہزار 945 افراد جبکہ اکاؤنٹنٹس کی تعداد 4 ہزار 305 اور ڈاکٹروں کی تعداد 3 ہزار 795 رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق اساتذہ کی تعداد ایک ہزار 725 اور نرسوں کی تعداد ایک ہزار 639 ریکارڈ کی گئی۔ کمپیوٹر پروگرامرز کی تعداد ایک ہزار 147 رہی، جبکہ سسٹم اینالسٹس کی تعداد 362 اور فارماسسٹس کی تعداد 183 درج کی گئی۔
دیگر شعبوں میں ڈیٹا انکوڈر کی تعداد ایک ہزار 510، مالیاتی تجزیہ کار 923، مشیر 512،بجٹ کنٹرولر 38 اور پائلٹس کی تعداد 37 ریکارڈ کی گئی۔
سال 2026(اکتوبر) کے اعداد و شمار
سال 2026 میں اب تک 15 ہزار 850 اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد روزگار کیلئے بیرون ملک جا چکے ہیں۔
رواں سال اب تک 5160 منیجرز ، انجینئرنگ کے شعبے میں 3 ہزار 605 افراد بیرون ملک جا چکے ہیں ، جبکہ ڈاکٹروں کی تعداد 2 ہزار 93 اور اکاؤنٹنٹس کی تعداد ایک ہزار 771 رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق اساتذہ کی تعداد ایک ہزار 457، کمپیوٹر پروگرامرز کی 664 اور نرسوں کی تعداد 626 ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح 424 مالیاتی تجزیہ کار، سسٹم اینالسٹس کی 243 اور مشیر کی تعداد 228 رہی۔
دیگر شعبوں میں فارماسسٹس کی تعداد 156، ڈیٹا انکوڈر کی 45، بجٹ کنٹرولرز کی 18 اور پائلٹس کی تعداد 11 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اعلیٰ ہنر یافتہ افراد کی تعداد 681 رہی۔
اس موقع پر وزیرمملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ ایک کروڑ سے زیادہ پاکستانی پوری دنیا میں ہیں جہاں سے 40 بلین ڈالر زرمبادلہ پاکستان آتا ہے۔ہم اگلے 2 سالوں میں زرمبادلہ کو دو گنا کرنا چاہتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ثمینہ خالد گھرکی نے سوال کیا کہ لیبر کلاس جو باہر جاتے ہیں ان کے لیے کیا اقدامات کئے گئے ہیں جس کے جواب میں عون چوہدری کا کہنا تھا کہ لوگ غیرقانونی طریقے سے جاتے ہیں اورپھر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جو افسوسناک ہے،لوگوں کو غیرقانونی باہربھیجنے والےایجنٹس کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہے۔

