پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر نے گورنر راج سے متعلق رپورٹ پر سوال اٹھا دیا۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی منظوری سے متعلق بحث کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے حکومتی اقدام پر سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت وہ رپورٹ سامنے لائے جس کی بنیاد پر صوبائی حکومت کو ختم کیا گیا۔
علی ظفر نے آئین کے آرٹیکل 234 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس شق کے تحت صدر مملکت کو صوبے کے گورنر کی رپورٹ موصول ہونا اور اس پر اطمینان حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر وہ کون سی رپورٹ تھی جو صدر کو بھیجی گئی اور صدر نے کس بنیاد پر اطمینان حاصل کیا؟
پی ٹی آئی سینیٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردی کی روک تھام وفاق کی ذمہ داری بھی ہے، جس کا ذکر آئین کے آرٹیکل 148 کے تحت کیا گیا ہے۔
ان کا سوال تھا کہ اگر دہشت گردی کے واقعات کی بنیاد پر کسی حکومت کو ناکام قرار دے کر گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے تو پھر وفاق میں دہشت گردی کے واقعات پر وہاں بھی ایسا ہی اقدام کیوں نہیں کیا جاتا؟
انہوں نے بلوچستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر صوبے میں امن و امان کی صورت حال حکومت کی ناکامی کا پیمانہ ہے تو بلوچستان میں گورنر راج کیوں نافذ نہیں کیا گیا، جہاں ان کے بقول صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
علی ظفر نے حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ متعلقہ رپورٹ پیش کرے تاکہ واضح ہو سکے کہ صوبائی حکومت کے خاتمے کے لیے کیا جواز اختیار کیا گیا۔
عابد شیر علی سے تلخ جملوں کا تبادلہ
علی ظفر کی تقریر کے دوران مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عابد شیر علی نے شور شرابا کیا، جس پر پی ٹی آئی سینیٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا، ”چور مچائے شور۔“
علی ظفر نے مزید کہا کہ اگر وزیر قانون سے غلطی ہو گئی ہے تو شور مچانے سے بات نہیں بنے گی۔
اس موقع پر عابد شیر علی اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور جواباً کہا کہ ”چور جیل میں پڑا ہے۔“ صورت حال کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے عابد شیر علی کو خاموش کرایا۔
پس منظر
صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر 2026 کو آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔
وفاقی حکومت نے اس اقدام کا جواز صوبائی حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں مبینہ عدم تعاون اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال کو قرار دیا جبکہ پی ٹی آئی نے اسے سیاسی اقدام اور آئینی اختیارات سے تجاوز قرار دیا۔
15 اکتوبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گورنر راج کی منظوری کی قرارداد منظور کر لی گئی۔ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت اس اقدام کو ابتدائی دو ماہ کے اندر مشترکہ اجلاس سے منظور کرانا ضروری ہے جبکہ اس کی مدت میں توسیع دو، دو ماہ کے لیے کی جا سکتی ہے اور مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔



