پشاور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے کے مقدمے میں پولیس نے ضمنی چالان جمع کرا دیا جس میں معزول وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت 5 افراد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز مقدمے کی سماعت جج ولی محمد خان کی عدم موجودگی کے باعث ملتوی ہو گئی تھی جو اب 28 اکتوبر کو ہو گی۔
مقدمے کے تفتیشی افسر ڈی ایس پی خوشحال خان نے ضمنی چالان ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر کے پاس جمع کرایا جنہوں نے اسے عدالت کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔
ضمنی چالان میں سہیل آفریدی کے علاوہ سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش، پاکستان تحریک انصاف کے پشاور کے ضلعی صدر عرفان سلیم اور پارٹی کارکن عامر خان چمکنی کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد حراست میں لیا گیا تھا جس کی تصدیق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کے دوران بھی کی۔
انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ “ہاں میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ کے کچھ افراد کو حراست (پری ونٹیو کسٹڈی) میں لیا گیا ہے۔”
یاد رہے کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں 75 ملزمان کے خلاف ٹرائل جا ری ہے، جن پر 3 جون 2025 کو مختلف الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ تمام ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا تھا۔
ٹرائل کا سامنا کرنے والوں میں صوبائی وزیر مینا خان آفریدی، رکن قومی اسمبلی آصف خان، ارکان صوبائی اسمبلی فضل الٰہی خان اور ارباب وسیم، جبکہ سابق ارکان صوبائی اسمبلی ارباب جہانداد، فدا گل اور واجد خان شامل ہیں۔
ارباب وسیم پی ٹی آئی چھوڑ کر پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز میں شامل ہو چکے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے کے سلسلے میں مقدمہ 10 مئی 2023 کو تھانہ ایسٹ کینٹ میں پاکستان پینل کوڈ اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔
