خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے کل سے کھل جائیں گے، تاہم صوبے کے 12 حساس اضلاع میں ایمرجنسی کے باعث اسکول بدستور بند رہیں گے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مختلف اضلاع میں تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اسی سلسلے میں پیر 12 اکتوبر کو صوبے کے مختلف علاقوں میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔
ہم نیوزکے مطابق محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کے ذرائع کا بتانا ہے کہ پشاورسمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں اسکولوں، کالجز اورجامعات میں تدریسی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق پشاورسمیت خیبرپختونخوا کے بیشترعلاقوں میں طلبہ کل سے تعلیمی اداروں میں جا سکیں گے۔
سرکاری اورنجی اسکولوں کے علاوہ کالجزاورجامعات بھی کھول دی جائیں گی، جس کے بعد معمول کی تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
دوسری جانب صوبے کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی اضلاع سمیت 12 حساس علاقوں میں اسکول تاحکم ثانی بند رہیں گے۔ ان علاقوں میں ایمرجنسی کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بحال نہیں کی جا رہیں۔
ذرائع کے مطابق جن علاقوں میں تعلیمی ادارے بند رہیں گے، ان میں آٹھ قبائلی اضلاع کے علاوہ بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں، ان اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظراسکولوں کی بندش برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم حساس علاقوں میں حالات کے مطابق تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
ان علاقوں میں طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی عملے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکولوں کو تاحکم ثانی بند رکھا جائے گا۔
تازہ فیصلے کے تحت صوبے کے بیشتر حصوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوں گی جبکہ 12 حساس اضلاع میں اسکولوں کی بندش برقرار رہے گی۔
والدین اور طلبہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ ضلع میں تعلیمی ادارے کھلنے یا بند رہنے سے متعلق انتظامیہ اور تعلیمی اداروں کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کریں۔



