سری لنکن ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان دھننجایا ڈی سلوا نے قیادت سے استعفیٰ دے دیا۔
دھننجایا ڈی سلوا نے کہا کہ وہ قیادت کی ذمہ داری ‘اگلی نسل’ کو منتقل کرنا چاہتے ہیں تاہم وہ بطور کھلاڑی قومی ٹیم کے لیے دستیاب رہیں گے۔
دھننجایا ڈی سلوا کی جانب سے قیادت چھوڑنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سری لنکا کی اگلی ٹیسٹ اسائنمنٹ پاکستان کے خلاف 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز ہے جس کا آغاز اگلے ماہ 9 نومبر کو راولپنڈی میں ہوگا۔
سری لنکا کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ایشلے ڈی سلوا نے کہا کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ دھننجایا ڈی سلوا کے ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرنے پر ان کا شکریہ اور ان کے بقیہ کیریئر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔
سلیکٹرز کی جانب سے سری لنکا کے نئے ٹیسٹ کپتان کا نام ابھی سامنے نہیں لایا گیا۔
دھننجایا ڈی سلوا کی قیادت میں سری لنکا نے 18 ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں 7 میں کامیابی حاصل کی 8 میں شکست ہوئی جبکہ 3 میچز ڈرا ہوئے۔
ان کی کپتانی کا بہترین سال 2024 رہا جب سری لنکا نے بنگلادیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز 0-2 سے جیتی، اس کے بعد دی اوول میں کامیابی حاصل کی، جبکہ نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز بھی 0-2 سے اپنے نام کی۔تاہم 2024 کے اختتام اور 2025 کے آغاز کے دوران سری لنکا کو جنوبی افریقا کے خلاف بیرون ملک اور آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز میں مسلسل 4 ٹیسٹ میچز میں شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
دھننجایا ڈی سلوا کا استعفیٰ سری لنکا کی مردوں کی ٹیم کی قیادت اور انتظامی ڈھانچے میں ہونے والی متعدد تبدیلیوں کے دوران سامنے آیا ہے۔
رواں سال کے آغاز میں کوشل مینڈس کو وائٹ بال ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا اور انہوں نے چارتھ اسالنکا کی جگہ لی تھی،کوشل مینڈس ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہیں سری لنکا کے نئے ٹیسٹ کپتان کے لیے زیر غور لایا جاسکتا ہے۔


