اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں عمرہ کی ادائیگی پر مبارکباد دی۔
گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی ملاقات کی تھی، اس ملاقات میں علامہ راجہ ناصر عباس، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے تھے، مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا لطف الرحمان، محمد اسلم غوری، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور اخونزادہ حسین بھی ملاقات میں موجود تھے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے ملاقات میں آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز دی تھی۔
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اسلام آباد میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ان کے لیے بھائیوں کی طرح ہیں، ان کے صاحبزادے ان کے کولیگ اور بھتیجے بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان سے ان کے سیاسی تعلقات سے بڑھ کر ذاتی اور خاندانی رشتے ہیں۔
ایاز صادق نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے اور وہ بنیادی طور پر انہیں عمرے کی مبارکباد دینے آئے تھے تاہم ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور اہم سیاسی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ “امید پر دنیا قائم ہے”، پاکستان کے لیے اللہ راستے بناتے جارہا ہے اور ملک کی بہتری کے لیے سیاسی راستہ نکالا جارہا ہے۔
اسپیکر نے کہا کہ بیک ڈور رابطے جاری رہتے ہیں اور قومی اسمبلی کے ساتھیوں سے بھی فون پر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ پاکستان کے لیے جو بہتر ہوگا، انشاء اللہ وہی راستہ نکلے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے آپ کی حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن جب آپ کی حکومت آئی تو آپ لوگ مولانا کو بھول گئے،ہم نیوز کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں، ان کے صاحبزادے میرے کولیگ اور بھتیجے بھی ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے میرے سیاسی تعلقات سے بڑھ کر ذاتی اور خاندانی رشتے ہیں۔
ملاقات کا سیاسی پس منظر
مولانا فضل الرحمان سے حکومتی وفد کی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی معاملات پر رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز اپوزیشن کے اہم رہنماؤں نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی، جس میں ملک کی سیاسی صورتحال، حکومت کے ساتھ تعلقات اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اپوزیشن رہنماؤں کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد آج حکومتی وفد کی ان کی رہائش گاہ آمد کو سیاسی رابطوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان ماضی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی معاملات پر رابطوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں جبکہ موجودہ سیاسی صورتحال میں بھی ان سے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی ملاقاتیں جاری ہیں۔



