عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
برینٹ 4.37 فیصد اضافے کے بعد 102.30 ڈالر فی بیرل ہوگیا، اسی طرح امریکی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 0.13 فیصد اضافے سے 93 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی ہے ۔
اماراتی تیل مربان 7فیصد اضافے سے109.40 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہورہا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی توانائی کی قیمتوں، شدید ایل نینو اور قرض لینے کی بڑھتی لاگت کے باعث ترقی پذیر ممالک پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
مالی بحران کے خدشات
یو این ڈی پی کے مطابق موجودہ حالات میں کئی ترقی پذیر ممالک مالی مشکلات کا شکار ہونے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو نے خبردار کیا کہ ایسے حالات جنم لے سکتے ہیں جس کے نتیجے میں بہت سے ممالک مالی مشکلات میں دھکیل دیے جائیں۔
الیگزینڈر ڈی کرو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ترقی پذیر ممالک کو درپیش بڑے چیلنجز پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں غور متوقع ہے، جو 12 سے 18 اکتوبر تک تھائی دارالحکومت بینکاک میں ہوں گے۔تاہم انہوں نے ترقی پذیر ممالک کیلئے نئے قرض ریلیف پروگرام کا مطالبہ نہیں کیا۔
قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند سطح پر
آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاسوں میں دنیا بھر کے اعلیٰ مالیاتی حکام عالمی معیشت، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر عالمی چیلنجز پر تبادلہ خیال کریں گے۔
یو این ڈی پی کے مطابق افراط زر سے متعلق بڑھتے خدشات کے باعث حکومتوں کیلئے قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے ترقی پذیر ممالک کے مسائل مزید بڑھا دیے ہیں۔
شدید ایل نینو سے غذائی عدم تحفظ کا خدشہ
یو این ڈی پی کے مطابق 1950 کے بعد سے شدید ترین ایل نینو موسمی اثرات سامنے آنے کی توقع ہے، جس کے باعث بعض خطوں میں زیادہ سیلاب اور دیگر علاقوں میں خشک سالی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ادارے کے مطابق ان موسمی حالات کے نتیجے میں 2027 کے اختتام تک مزید 4 کروڑ 90 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوسکتے ہیں۔
الیگزینڈر ڈی کرو نے بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد یو این ڈی پی کی جانب سے کیے گئے سرویز سے ظاہر ہوا کہ یہ تنازع ایک علاقائی جنگ سے بڑھ کر تقریباً 100 ممالک کو متاثر کرنے والے بحران میں تبدیل ہوچکا ہے۔
حکومتوں کے مالی ذخائر کم ہونے لگے
ڈی کرو کے مطابق متعدد حکومتوں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے سے اپنے شہریوں کو تحفظ دینے کیلئے اقدامات کیے، تاہم اب ان کے مالی وسائل کم ہورہے ہیں اور قرضوں کی سطح بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال حقیقی ریلیف نظر نہیں آرہا، اس لیے ممالک کو سب سے زیادہ کمزور طبقوں کی مدد کیلئے اقدامات پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کے مطابق بعض ممالک توانائی کے ذرائع متنوع بنانے اور اپنے غذائی نظام کو حالات کے مطابق ڈھالنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں، لیکن ان کوششوں میں وقت لگے گا، جس کے باعث موجودہ صورتحال میں ممالک کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
توانائی اور خوراک پر سبسڈی کا بوجھ
یو این ڈی پی کے چیف اکانومسٹ جارج گرے مولینا نے بتایا کہ ستمبر میں ایک اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی، جب بعض حکومتوں نے توانائی کی بلند قیمتوں کا بوجھ براہ راست شہریوں تک منتقل کرنا شروع کیا اور جنگ شروع ہونے کے بعد خوراک اور توانائی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کیلئے دی جانے والی سبسڈی، ٹیکس ریلیف اور دیگر اقدامات واپس لینا شروع کیے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتیں اس مالی اور معاشی بوجھ کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں۔
مولینا کے مطابق متوسط آمدنی والے ممالک نے بھی توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کی کوشش میں اپنے مالی ذخائر تیزی سے ختم کر دیے ہیں۔
احتجاج اور سماجی بے چینی
یو این ڈی پی کے مطابق آئندہ 60 دنوں کے دوران بانڈ مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں میں ہونے والی پیش رفت انتہائی اہم ہوگی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ توانائی کی بلند قیمتوں نے ستمبر میں پہلے ہی 10 ممالک میں احتجاج اور سماجی بے چینی میں کردار ادا کیا۔
یو این ڈی پی کی جانب سے کیے گئے سروے میں 26 میں سے 22 ممالک نے موجودہ بحران کو اعلیٰ یا درمیانی ترجیح قرار دیا، جبکہ 13 ممالک نے کہا کہ یہ بحران پہلے سے موجود معاشی یا مالی بحران کے ساتھ سامنے آیا ہے۔سروے میں شامل تمام 26 ممالک نے رائے دی کہ بحران کی بدترین صورتحال ابھی آنا باقی ہے۔


