اسلام آباد: وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اب پی ٹی آئی کو سنجیدگی دکھانا ہو گی۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے ہم نیوز کے پروگرام “فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تمام تر معاملات افہام و تفہیم سے ہی حل ہونے چاہیئیں۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کے حوالے سے جو جتن کرنے تھے کر لیے اور پھر کہا گیا کہ ہم حکومت کو ایک اور موقع دیتے ہیں جبکہ حکومت نے کوئی موقع نہیں مانگا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں یہی ہوتا ہے کہ معاملات بیٹھ کر حل کیے جائیں اور ہم نے ہمیشہ سے یہی کہا کہ بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کیا جائے۔ حکومت کا دوٹوک مؤقف ہے کہ یہ معاملات ایسے نہیں چل سکتے۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا تاہم معاملات بہتری کی طرف جا رہے ہیں اور امید ہے کہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو جائیں گے۔
پی ٹی آئی کو موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، بیرسٹر عقیل ملک
بیرسٹر عقیل نے کہا کہ پی ٹی آئی سے پس پشت رابطے تو پہلے بھی تھے تاہم اس پارٹی میں المیہ یہ ہے کہ دو گروپس بنے ہوئے ہیں۔ تاہم اگر معاملہ گفتگو کی طرف جا رہا ہے تو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ لیکن اگر اس بار گفتگو کا موقع ضائع کیا گیا تو اس کی ذمہ دار پی ٹی آئی ہے ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات کے لیے پہلے ہی ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کر دیا تھا تاہم امید ہے حکومت کی جانب سے بھی جلد کمیٹی بنا لی جائے گی جو پی ٹی آئی سے مذاکرات کرے گی۔ تاہم سنجیدگی اور عقل مندی تو اسی میں ہے کہ پی ٹی آئی کسی مارچ یا جلاؤ گھیراؤ کے معاملے پر نہیں بلکہ صوبے میں دہشتگردی اور بدامنی کے معاملے پر توجہ دیں۔
عمران خان کو رہائی عدالتوں کے ذریعے ہی ملے گی، وزیر مملکت
وزیر مملکت نے کہا کہ ماورائے آئین قانون تو ہم عمران خان کو رہا نہیں کر سکتے یہ تو عدالت سے ہی رہائی ملے گی تاہم ہم رسائی دے سکتے ہیں لیکن اس کی بھی کچھ کنڈیشنز ہیں۔ عدالتوں نے بھی کہا ہے کہ ملاقاتوں کو سیاسی معاملے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو نہیں ہونا چاہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری سے متعلق مجھے زیادہ نہیں معلوم۔ گرفتاری کیوں کی گئی اس پر پنجاب حکومت ہی تفصیلات بتا سکتی ہے۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ عمران خان کو اسپتال لے جانے پر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ شفا اسپتال کی جگہ پمز اسپتال کیوں لے جایا گیا اس کی وجوہات تو عدالت میں ہی پیش کی جائیں گے۔ جب ضرورت پڑے گی عمران خان کو اسپتال لے کر جایا جائے گا لیکن پارٹی کے کہنے پر تو ایسا نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے انہیں 2 خط لکھے لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اب وہ ملاقات کے لیے وزیراعظم ہاؤس جانے کو تیار نہیں۔ جس سسٹم کو یہ مانتے ہیں اسی سسٹم کا حصہ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہیں گھبراہٹ باہر بیٹھے یوٹیوبر سے ہے جو بعد میں مصالحے لگا کر پی ٹی آئی رہنماؤں کی کلاس لیتے ہیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ محمود اچکزئی ایک زیرک سیاست دان ہیں اور ان کے ساتھ بڑے مثبت انداز میں چیزیں آگے بڑھ سکتی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وزیراعظم نے دعوت دی ہے تو ان سے وہاں جا کر ملاقات کر لینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا کابینہ کے دوستوں سے رابطے تھے اور سب یہ چاہتے تھے کہ بات چیت کا راستہ نکلنا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاملات بہتری کی طرف جانے چاہئیں اور لانگ مارچ کر کے یہ اپنے سر پر مزید تلواریں لٹکانا چاہتے ہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو جو کام کرنے چاہیں کیا یہ وہ کام کر رہے ہیں؟ وہ اپنی آئینی و قانونی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے۔



