وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آبادی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی ایسے 2 مسائل ہیں جن سے ‘پاکستان کی بقا کو خطرہ’ ہو سکتا ہے۔
اوورسیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) میں خطاب اور سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ “اگر ہم 6 سے 7 فیصد شرح نمو بھی حاصل کرلیں، تو آبادی میں سالانہ ڈھائی فیصد اضافہ ہم برداشت نہیں کر سکتے۔”
ان نے سوال اٹھایا کہ اگر 26 کروڑ آبادی والے ہمارے ملک کو صحت اور تعلیم سمیت دیگر بہت سے مسائل کا سامنا ہے، تو اسی شرح سے بڑھ کر یہ آبادی جب 40 کروڑ ہو جائے گی تب ہم کیا کریں گے؟ “یہ سوچنے کی بات ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں پاپولیشن کونسل قائم کی گئی ہے۔ “ایران، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش جیسے مسلم ممالک آبادی میں اضافے کی شرح کو ایک فیصد سے نیچے لے آئے ہیں، ہمیں بھی جی ڈی پی گروتھ کیساتھ آبادی میں اضافے کی شرح کے ‘ٹکنگ بم’ کو ایک فیصد تک لانا ہوگا۔”
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ گزشتہ ڈھائی سے 3 سال میں پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کیا ہے، تاہم اسے برقرار رکھنے کے ساتھ برآمدات بڑھانے اور نجی شعبے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
مزید تفصیل میں جاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر تک پہنچنا خوش آئند ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ بھی سرپلس میں رہا۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں آگئی تھی، تاہم عالمی جنگ اور کشیدگی کے باعث اس میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق اپریل 2025 سے اب تک پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگز میں بہتری آئی ہے اور ملک ‘بی ریٹنگ’ پر موجود ہے اور جلد ‘بی پلس’ پر ہوگا۔
Federal Minister for Finance and Revenue Senator Muhammad Aurangzeb speaking at the Overseas Investors Chamber of Commerce and Industry (OICCI) in Karachi today. https://t.co/qR287YvSea
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) October 1, 2026
وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام سے مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا ہے، پی آئی اے کی نجکاری میں غیر ملکی ادارے کے بجائے مقامی سرمایہ کاروں نے دلچسپی ظاہر کی، جبکہ ابتدائی 3 ڈسکوز میں ترکیہ اور سعودی عرب کی دلچسپی سامنے آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے 4 سال بعد لندن اسٹاک ایکسچینج میں پاکستان کا بانڈ جاری ہوا اور یورپ کے بڑے سرمایہ کار بھی پاکستان کی جانب متوجہ ہوئے ہیں۔
سیاسی استحکام اور صنعتی سرگرمیاں
سوالات کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ سیاسی حالات جیسے بھی ہوں، برآمدات کا عمل نہیں رکنا چاہیے۔ سیاسی صورتحال بہتر بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر بات کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ملکی صنعتوں کی بندش سے معیشت کو روزانہ تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق خلیج میں جاری کشیدگی کے باوجود پاکستان میں دیگر ممالک کے مقابلے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی وعدوں کی وجہ سے پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کی جا سکتی، تاہم حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم سبسڈی فراہم کرنا شروع کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بار بار ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹس) کے بحران سے بچانے کے لیے درآمدات پر انحصار کم اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا۔
ٹیکس اصلاحات اور کاروباری طبقہ
وزیر خزانہ نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے بجٹ میں سپر ٹیکس ختم کیا گیا ہے، جبکہ برآمدات کے فروغ کے لیے ایکسپورٹرز کو 4.5 فیصد شرح پر فنانسنگ فراہم کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق تاجر ٹیکس اسکیم بند کمروں میں بیٹھ کر نہیں بنائی گئی بلکہ 3 سے 4 ماہ تک مشاورت کے بعد اسے متعارف کرایا گیا۔ وزیراعظم کی ہدایت تھی کہ تمام متعلقہ فریقوں سے بات چیت کرکے کسی ممکنہ سقم کو دور کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس سلیب میں کمی کی اور کوشش کی کہ ٹیکس کا سارا بوجھ صرف ڈاکیومنٹڈ کارپوریٹ سیکٹر پر نہ پڑے۔ چھوٹے دکانداروں کو بھی مشاورت سے ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا، جس سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے میں مدد ملی۔
محمد اورنگزیب نے خبردار کیا کہ اگر مشاورت کے باوجود تاجر ٹیکس ادا نہیں کرتے تو حکومت انفورسمنٹ کی طرف جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ کوئی بھی ہو، سوچے سمجھے بغیر معاشی فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔ ان کا ماننا ہے کہ ترقی کو شخصیات سے منسلک کرنے کے بجائے ادارہ جاتی نظام مضبوط بنانا ہوگا، کیونکہ افراد آتے اور چلے جاتے ہیں لیکن سسٹم اور پالیسی کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے کی 3.5 ارب ڈالر کی فنانسنگ برقرار ہے اور سکیورٹی جائزے کے بعد منصوبے پر کام آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ سرمایہ کاری ملکی معیشت کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
محمد اورنگزیب نے اس بات کی تائید کی کہ آئی ایم ایف کی تجوہز کردہ اصلاحات اور سفارشات میں کوئی ایسی چیز نہیں جو پاکستان کے مفاد میں نہ ہو اور غیر ملکی سرمایہ کار بھی انہی اصلاحات کا خواہاں ہے۔



