چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ایمرجنسی یا گورنر راج سے حالات مزید خراب ہوں گے، خیبر پختونخوا میں غیر قانونی و غیر آئینی اقدام نہیں ہونا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آپ ایک مینڈیٹ کوختم کر رہے ہیں، ایسا اقدام نہیں ہونا چاہیے جو عوام کی مرضی کے برعکس ہو۔
چند روز سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی خبریں گردش کر رہی ہیں، وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے 4 اکتوبر کو اسلام آباد مارچ کے اعلان نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ہمارا مارچ پرامن ہو گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج کے حالات میں ایک ایک دن بہت اہم ہے، ہم پرامن احتجاج بالکل کریں گے، اسمبلی توڑنے کا کوئی آپشن نہیں ہے، وفاق مضبوط ہونا چاہیے، اس کیلئے خودمختار صوبے کا ہونا ضروری ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کیساتھ ملاقات ہو گی یا نہیں؟
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کیساتھ تو ملاقات نہیں ہو رہی، ہماری اپنی ملاقات ہو گی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا سے متعلق حتمی فیصلے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں امن و امان کے قیام میں ناکام ہو چکی ہے۔ وزیراعظم نے صوبے میں سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر کشمیر امور امیر مقام، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعت عطا تارڑ شریک ہوئے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قانونی اور آئینی پہلوؤں پر بریفنگ
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی اور سکیورٹی کی صورتحال جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قانونی اور آئینی پہلوؤں پر بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے تحریک انصاف کی قیادت سے پس پردہ رابطوں پر بھی اعتماد میں لیا، جبکہ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا سے متعلق فیصلے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔
گزشتہ روز بھی وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں خیبر پختونخوا کے حوالے سے مختلف آئینی اور قانونی اور آپشنز پر غور کیا گیا۔
اجلاس سے متعلق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والا اعلیٰ سطح کا اجلاس قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل معمول کی مشاورت تھی اور اس کا گورنر راج یا ہنگامی حالت کے نفاذ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔



