وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معیشت کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ملکر مشکل حالات میں کام کیا، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس بہتر ہوئے ہیں، ایکسپورٹ گروتھ دکھانا ہو گی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ٹریڈنگ ہال میں منعقدہ تقریب سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنی غلطیوں کو ٹھیک نہیں کریں گے تو ترقی نہیں کر سکتے۔ معاشی چیلنجز کو مدنظر رکھ کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اس کے اصل مقام پر لانا ہے۔ انشاء اللہ دنیا کے نقشے پر پاکستان طاقتور معیشت کے طور پر سامنے آئے گا۔
یہ تقریب نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریٹ کی پبلک لسٹنگ اور عوام کی جانب سے شاندار ردعمل کی مناسبت سے منعقد کی گئی، وزیر اعظم نے بطور مہمانِ خصوصی تقریب میں ورچوئل شرکت کی جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب میں ذاتی طور پر شرکت کی۔ تقریب میں اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد اور سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین بھی موجود تھے۔
کچھ لوگوں کو سونے کے چنے کھلائے گئے لیکن کارکردگی نہیں دکھائی، شہباز شریف
شہباز شریف نے کہا کہ کسی کانام نہیں لینا چاہتا، انہیں سونے کے چنے کھلائے گئے لیکن کارکردگی نہیں دکھائی، انڈسٹریز کو خون پسینے کی کمائی سے سبسڈی دی لیکن آج ان کا کیا حال ہے؟۔
انہوں نے کہا کہ میں امریکا اور برطانیہ کے دورے سے واپس آیا ہوں، نامور بینکرز اور دیگر بینکرز نے ملاقاتوں کے دوران کہا کہ کامیاب سفارتکاری سے سرمایہ کاری کی راہیں کھولی گئیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریٹ اسٹرکچر کا منصوبہ قابل تعریف ہے، کراچی میں خاص طور پر تعمیراتی سیکٹر ترقی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مسلح افواج کے نمائندوں کی کوششوں سے پاکستان خطے میں ایک مثال بن کر ابھرا۔
وزیراعظم نے کہا کہ چیئرمین نیب نے زمینیں واگزار کرا کر ریکوری کی ہے، چیئرمین نیب اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اپنا گھر اسکیم کے تحت 60 ارب روپے کا اجرا کیا جا چکا، بینکوں نے 340 ارب کے قرض منظور کئے۔
نجکاری کا عمل آگے بڑھ رہا ہے ، محمد اورنگزیب
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اب مسئلہ فنانسنگ کا نہیں، سپلائی کو بہتر بنانا ہے، ہم نے تجارتی خسارے کومنافع میں تبدیل کیا، ٹیکس نظام میں مزید اصلاحات لا رہے ہیں، نجکاری کا عمل آگے بڑھ رہا ہے ، بیرونی سرمایہ کاری راغب کرنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں.
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پائیدار معاشی استحکام کیلئے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، حکومت کا کام پرائیویٹ سیکٹر کو بہترین ماحول فراہم کرنا ہے، پرائیویٹ سیکٹر نے ملک کو آگے لے کر جانا ہے، ملک کی بڑی کاروباری کمپنیوں کو ملکرکام کرنا ہو گا۔



