اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کی ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں اہم آئینی، قانونی اور پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسپیکر ایاز صادق نے اپوزیشن سے ہونے والے پسِ پردہ رابطوں کے بارے میں وزیراعظم کو آگاہ کیا، جبکہ پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات کی تفصیلات سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس کی طلبی کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔
’صوبے میں لوگ مر رہے ہیں، وزیر قانون‘
دوسری جانب وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہونے والی میٹنگ میں تمام سرکاری اہلکار بھی شامل تھے اور یہ قانون سازی سے قبل ہونے والی ایک ریگولر میٹنگ تھی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حلیف جماعت پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، تاہم اس میٹنگ کا گورنر راج یا ایمرجنسی کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی سے متعلق ان کا دو روز قبل جو مؤقف تھا، آج بھی وہی ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ اگر حالات اس طرف جا رہے ہوں اور آئینی تقاضے پورے ہو رہے ہوں تو یہ ایک قانونی عمل ہے۔ اس حوالے سے فیصلہ صدر یا وزیراعظم نے کرنا ہے، میں نے یا طارق فضل چوہدری نے نہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے خیبر پختونخوا کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں لوگ مر رہے ہیں، عام شہری اور فوجی شہید ہو رہے ہیں جبکہ ایسے اقدام کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو قانونی طریقے سے بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ میٹنگ قومی اسمبلی کے ہر اجلاس سے قبل ہوتی ہے۔بانی پی ٹی آئی سے متعلق سوال پر وزیر قانون نے کہا کہ ان کا معاملہ عدالت میں ہے جہاں وہ پیش نہیں ہوتے، حکومت بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت وفاق پر چڑھائی نہیں کر رہی۔



