اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) میں شامل کرنے سے متعلق پاسپورٹ رولز 2021 کی رول 22(2)(b) کی متعلقہ شق کو پاسپورٹ ایکٹ 1974 اور آئین سے متصادم قرار دے دیا۔
جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے والے شہری کو ائیر پورٹ پر آف لوڈ کیے جانے کے خلاف درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ کسی شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے لیے واضح قانونی اختیار اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں، قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کسی شہری کو بیرون ملک سفر سے نہیں روکا جا سکتا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ پاسپورٹ کنٹرول لسٹ کو پاسپورٹ ایکٹ 1974 اور پاسپورٹ رولز میں وضع کردہ قانونی طریقہ کار کے مطابق مرتب کیا جائے۔
عدالت نے سیکرٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو بھی عدالتی فیصلے کی کاپی بھجوانے کا حکم دیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ شہری کا نام پی سی ایل میں شامل کرنے کے لیے محض انتظامی اقدام کافی نہیں بلکہ اس کے لیے واضح قانونی اختیار اور مقررہ قانونی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے۔
قانونی تقاضے پورے کیے بغیر شہری کو بیرون ملک جانے سے نہیں روکا جا سکتا
عدالت نے قرار دیا کہ کسی شہری کو بیرون ملک سفر سے روکنے کے لیے متعلقہ حکام کے پاس قانونی اختیار موجود ہونا چاہیے اور اس اختیار کا استعمال قانون میں وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق کیا جانا ضروری ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہری معین الدین کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے 15 روز کے اندر نکالنے کا حکم بھی جاری کیا۔ فیصلے میں پاسپورٹ اور امیگریشن حکام کے عدالتی حکم پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر بھی برہمی کا اظہار کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ 15 جنوری 2026 کو عدالت نے ایک ہفتے کے اندر درخواست گزار کی پٹیشن پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم توہین عدالت کی درخواست اور نوٹس جاری ہونے تک متعلقہ فریقین کی جانب سے کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کوئی رسمی کارروائی نہیں، فریقین کو اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے۔
فیصلے کے مطابق پاسپورٹ حکام نے بعد میں جو رپورٹ عدالت میں پیش کی، اس پر صرف ’’اسپیکنگ آرڈر‘‘ کا عنوان لگا دینا کافی نہیں تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ اسپیکنگ آرڈر میں نہ کسی قانونی شق کا ذکر کیا گیا، نہ مجاز اتھارٹی کی نشاندہی کی گئی اور نہ ہی کسی متعلقہ رول کا حوالہ دیا گیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جس انداز میں پاسپورٹ حکام نے اسپیکنگ آرڈر جاری کیا، اس نوعیت کا حکم اسپیکنگ آرڈر کے زمرے میں نہیں آتا۔
شہری کو سعودی عرب میں سزا کے بعد ڈی پورٹ کیا گیا تھا
عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار معین الدین کو سعودی عرب میں خطرناک ڈرائیونگ کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے بعد اسے ڈی پورٹ کردیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے اپنی سزا مکمل کی اور اسے ڈی پورٹ کیا گیا تاہم اس کا پاسپورٹ نہ منسوخ کیا گیا اور نہ ضبط کیا گیا۔
درخواست گزار کو مؤثر سفری دستاویز رکھنے یا پاسپورٹ کی تجدید سے بھی نہیں روکا گیا۔
ویزا حاصل کرنے کے باوجود عمرہ کے لیے سفر سے روک دیا گیا
فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے بعد ازاں ویزا حاصل کرکے عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے کی کوشش کی، تاہم اسے ایئرپورٹ پر آف لوڈ کردیا گیا۔
عدالت کے مطابق درخواست گزار کے خلاف اس وقت کوئی مقدمہ یا انکوائری زیر التوا نہیں تھی اور نہ ہی وہ کسی مقدمے میں کسی ایجنسی کو مطلوب تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد درخواست گزار کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے 15 روز کے اندر نکالنے کا حکم دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ شہریوں کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو قانون میں دیے گئے اختیار اور مقررہ طریقہ کار کی پابندی کرنا ہوگی۔



