امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے فی لیٹر پیٹرول پر حکومت کی جانب سے ٹیکس اور لیوی کی مد میں وصول کیے جانے والے 135 سے 140 روپے کو ’بھتہ‘ اور ’غنڈہ ٹیکس‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف آج ملک کے 150 شہروں میں دھرنے دینے اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی تیاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم مہنگائی کے خلاف اور پیٹرول کی قیمت کم کرنے کے لیے طویل عرصے سے جد و جہد کر رہے ہیں۔ مہنگائی کم کرنے کے لیے انہوں نے کہا کہ پیٹرول پر 80 روپے کی اضافی پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کی کلائمیٹ سپورٹ لیوی، اور 21 روپے کی کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز ختم کیے جائیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت فی لیٹر پیٹرول پر 135 سے 140 روپے ’بھتہ‘ وصول کر رہی ہے۔ ”اسے ہم غنڈہ ٹیکس کہتے ہیں، جگہ ٹیکس کہتے ہیں اور یہ معاشی دہشتگردی ہے جو حکومت کی طرف سے پاکستان کے 25 کروڑ لوگوں پر مسلط ہے۔“
امیر جماعت اسلامی نے حکومت کی جانب سے شروع کی گئی پیٹرول سبسڈی اسکیم کو ’ناکافی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مڈل کلاس اور غریب لوگ بستے ہیں جن میں سے ڈھائی کروڑ لوگ موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہیں۔ “ہمارا مطالبہ ہے کہ ’لیوی کا بھتہ‘ ختم کیا جائے” جس سے فی لیٹر قیمت میں 100 سے 125 روپے تک کمی ہو جائے گی۔
انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ لیوی کے خاتمے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گرنے کے بعد ملک میں فی لیٹر قیمت 200 روپے سے بھی کم ہو جائے گی جس سے مہنگائی کم ہو گی اور معیشت کا پہیہ چلے گا۔
حافظ نعیم نے مہنگی بجلی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) ہم سے کیپسٹی چارجز کی مد میں اس بجلی کی قیمت بھی وصول کرتے ہیں جو بنتی ہی نہیں۔ ”حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ ناجائز طریقے سے معاہدے کیے تھے“ جن کا خمیازہ عوام بھاری بلوں کی صورت میں بھگت رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے بھاری بلوں میں، جو جمع نہ کرانے کی صورت میں کنکشن کاٹ دیا جاتا ہے، بجلی کی اصل قیمت سے زیادہ ٹیکسز اور کیپسٹی چارجز شامل ہوتے ہیں جو فوری طور پر ختم کیے جانے چاہئیں۔
امیر جماعت اسلامی نے گیس کی لوڈشیڈنگ سے مجبور ہو کر سیلنڈر استعمال کرنے پر ایل پی جی کی آسمان سے باتیں کرنے والی قیمتوں کو حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”بدترین حالات ہیں اور مہنگائی کا عذاب میں لوگ مبتلا ہیں“ جبکہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
انہوں نے مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج کے تیسرے فیز کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”بدقسمتی سے پاکستان میں کسی کو بھی فکر نہیں کہ وہ اس شدید مہنگائی کے خلاف آواز بلند کرے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ہر پارٹی میں لوٹ مار کا ایک مافیا ہے اور اسی لیے یہ پارٹیاں چاہے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ہوں، مہنگائی، لوٹ مار اور کرپشن کے خلاف آواز نہیں اٹھاتیں۔
لانگ مارچ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم نے مزید کہا کہ وزیر اعظم سے ملاقات کی بات چل رہی ہے جس کے لیے کل بھی وزرا نے لیاقت بلوچ سے رابطہ کیا ”لیکن ہمیں ایسی ملاقات کا فائدہ نہیں ہے جس میں عوام کو ریلیف نہ ملے، ہمیں کوئی شوق نہیں ہے۔۔۔۔ہم اپنے لانگ مارچ کی تیاری کر رہے ہیں۔۔۔۔جس کا اعلان کیا جائیگا۔۔۔۔اور اسلام آباد مارچ جب جماعت اسلامی کرے گی تو ان کے لیے روکنا آسان نہیں ہوگا۔“
انہوں نے گندم کی قلت، کسان کی مشکلات اور آٹے کی بڑھتی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کے مطابق حکومت کی زراعت مخالف پالیسیوں کی وجہ سے کسان اب گندم اگاتے ہی نہیں جس کی وجہ سے گندم امپورٹ کرتے ہیں ”اور پھر اس میں کماتے ہیں“۔
انہوں نے سندھ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”پورے سندھ میں قبضے ہو رہے ہیں“ اور ”کراچی میں لوٹ مار کا بازار گرم“ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں 41 ہزار اسکول ہیں لیکن کوئی ایک اسکول ایس بتا دیں جہاں 18 سال سے سندھ میں حکومت کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اپنے خاندان کے کسی بچے کو پڑھا سکتے ہوں۔
