پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا ہے کہ “آج خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹ دیا جائے گا، تمام راستے بند کردیے جائیں گے، اس کا ہم کیا مطلب سمجھیں، کیا سانحہ مشرقی پاکستان دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے؟”
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کو معلوم ہے گزشتہ تین چار دنوں سے مسلسل غنڈہ گرد عناصر ہمارے رہنماؤں اور کارکنان پر حملہ آور ہیں۔ صوبائی وزیر شکیل خان پر غنڈہ گردوں کی جانب سے قاتلانہ حملہ کیا گیا تاہم خوش قسمتی سے انہوں نے اپنے آپ کو اغوا ہونے سے بچا لیا۔
واضح رہے کہ سہیل آفریدی نے گزشتہ ماہ 5 اگست کو پشاور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور دیگر مطالبات کے حق میں 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ اسی اعلان کے پیش نظرگزشتہ کئی روز سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے دعوے کیے جارہے ہیں جبکہ آج پنجاب حکومت میں دفعہ 144 کا نفاذ کرنے کے ساتھ رینجرز کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ بدقسمتی سے اگلے ہی روز صوبائی وزیر فضل شکور خان کو موٹروے ٹول پلازہ سے اترتے ہی چار پانچ گاڑیوں میں غنڈہ گرد فائرنگ کے بعد اغوا کر کے لے گئے جن کا ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر آب پاشی ریاض خان کے گھر پر بھی کچھ لوگ گئے تھے جبکہ ڈی آئی خان سمیت دیگر اضلاع میں بھی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ نارواسلوک رکھا جا رہا ہے۔ مردان سے رکن قومی اسمبلی فضل خان کو بھی گرفتار کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے حالیہ سیاسی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل رانا ثنا اللہ کی جانب سے خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشت گرد قرار دینے سے متعلق بیانات سامنے آئے جبکہ پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ مریم صفدر نے کہا کہ مجھے انڈیا سے کوئی خطرہ نہیں لیکن باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ آج خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹ دیا جائے گا اور خیبر پختونخوا کے لیے تمام راستے بند کر دیئے جائیں گے جبکہ باقی پاکستان کھلا ہو گا۔ اس کا ہم کیا مطلب سمجھیں؟َ کیا سانحہ مشرقی پاکستان کو دہرانے کی سازش کی جا رہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ ہم سب کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کوئی کتنی بھی سازش کرے یہ پاکستان ہمارا ہے اور ہم نے پاکستان کو کسی صورت ٹوٹنے نہیں دینا، ہم مرتے دم تک پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور جو خیبر پختونخوا کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کی سازش کرے گا ان کے لیے پیغام ہے کہ پاکستان ہمارا تھا، ہمارا ہے اور ہمارا رہے گا۔
اگر کابینہ کے ارکان محفوظ نہیں تو ملک میں کون ۔محفوظ ہے، وزیر اعلی سہیل آفریدی pic.twitter.com/oGV54TWw9T
— Sardar Faizan Hussain (@SFaizanHussain) September 23, 2026
وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد بیوروکریسی، پولیس، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو ڈرا اور دھمکا رہے ہیں۔
انہوں نے بیوروکریسی اور پولیس افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، اگر صوبائی حکومت کسی افسر سے کوئی غلط کام نہیں کروا رہی تو کسی ادارے یا محکمے کے غلط احکامات پر عمل نہ کیا جائے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں بلکہ سب کا ملک ہے اور احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے۔ اور ہم پرامن احتجاج کریں گے کیونکہ ہمیں کہیں بھی نہیں سنا جا رہا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تک آئین میں پرامن احتجاج کا حق موجود ہے، تو ہم پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے، ہم احتجاج ہر صورت کریں گے اور اگر کوئی احتجاج کرنے کا حق نہیں دینا چاہتا تو آئین سے اس کی شق ہی ہٹا دیں۔
انہوں نے خیبرپختونخوا اور ملک بھر کے عوام کو پیغام دیا کہ جو جتنا بڑا ظالم ہوتا ہے وہ اتنا بڑا ڈرپوک ہوتا ہے، آپ لوگوں نے گھبرانا اور ڈرنا نہیں ہے، اپنی حقیقی آزادی کے لیے کھڑے ہونا ہے اور پرامن جدوجہد جاری رکھنی ہے۔ بہت جلد یہ ظلم کا دور ختم ہو گا۔



