کراچی: تاجر میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے مختلف کاروباری ساتھیوں اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرلیے، سماعت کے دوران میر رضا کی سرمایہ کاری، کاروباری معاملات اور پولیس کو دیئے گئے بیانات میں مبینہ تضادات کا جائزہ لیا گیا۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں کراچی میں قتل ہونے والے تاجر میر رضا علی کے کیس میں ایک رکنی کمیشن نے تاجر عابد فاروق، ان کے بھائی آصف، کاروباری شخصیت فیض الرحمن اور ملائیشیا سے ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہونے والے سریم بن طاہر کے بیانات قلمبند کیے۔
عابد فاروق نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا نے 2020 میں انہیں اپنے ریسٹورنٹ کے کاروبار میں شراکت کی پیشکش کی تھی، جس کے بعد انہوں نے 2024 میں 70 لاکھ اور 2025 میں 75 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی۔
انہوں نے کہا کہ میر رضا کے خاندان سے منسلک گاڑیوں کی کوٹنگ کے کاروبار میں بھی انہوں نے الگ سے ایک کروڑ روپے تک سرمایہ کاری کی تھی۔ جبکہ سرمایہ کاری کے حوالے سے کوئی باقاعدہ تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا، تاہم لین دین اور باہمی گفتگو کا ریکارڈ واٹس ایپ پر موجود تھا۔
عابد فاروق نے بتایا کہ ابتدا میں انہیں کاروبار سے ادائیگیاں ہوتی رہیں، تاہم اپریل 2026 میں ادائیگیوں میں تاخیر شروع ہوئی اور پھر ادائیگیاں بند ہوگئیں۔
کمیشن کے استفسار پر انہوں نے کہا کہ میر رضا نے مالی مشکلات کا ذکر نہیں کیا تھا بلکہ کہا تھا کہ وہ ریسٹورنٹ کا کاروبار وسیع کر رہے ہیں، اس لیے ادائیگیوں میں وقت لگے گا۔
عابد فاروق نے کہا کہ اپریل کے بعد بھی ان کی میر رضا سے ملاقاتیں ہوتی رہیں اور انہیں ان کے رویئے میں کوئی نمایاں تبدیلی محسوس نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ میر رضا کے کسی شخص سے 3 کروڑ روپے مانگنے کے بارے میں نہیں سنا اور نہ ہی انہیں یقین تھا کہ میر رضا کو بلیک میل کیا جا رہا تھا۔
عابد فاروق کے بھائی آصف نے بھی کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات تھے اور وہ مسلسل رابطے میں رہے۔ کمیشن نے دونوں بھائیوں کے بیانات مکمل کرلیے۔
ویڈیو لنک کے ذریعے گواہ کا بیان ریکارڈ
میر رضا علی کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے سامنے سافٹ ویئر شعبے سے وابستہ کاروباری ساتھی سریم بن طاہر نے بھی اہم بیان ریکارڈ کرا دیا۔
سریم بن طاہر نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا نے ان سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد بہادرآباد میں واقع ریسٹورنٹ کی ایک برانچ میں ان کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران کلاؤڈ کچن کے کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو ہوئی۔
سریم کے مطابق میر رضا نے بعد میں ان سے پوچھا کہ کیا وہ کرپٹو کرنسی کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ انکار پر میر رضا نے بتایا کہ فوڈ بزنس کے علاوہ ان کے دیگر کاروبار بھی ہیں، جن میں گاڑیوں سے متعلق کاروبار بھی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے میر رضا کو مشورہ دیا کہ پہلے کاروباری ڈھانچے کو بہتر، کاروبار کو باقاعدہ رجسٹرڈ اور مالی حسابات کو منظم کیا جائے۔ بعدازاں دونوں نے کاروباری شراکت نہ کرنے پر اتفاق کیا۔
سریم نے بتایا کہ دسمبر اور جنوری میں ان کی میر رضا سے ملاقاتیں ہوئیں، جن میں تقریباً 30 سے 35 لاکھ روپے کے مالی معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ بعد میں میر رضا نے سرمایہ کاری کے حوالے سے ان سے رابطہ کیا اور جب وہ اپنے اسٹاف کے ساتھ دفتر میں موجود تھے تو میر رضا نے انہیں 3 کروڑ روپے سے متعلق ایک پیغام بھیجا، تاہم بعد میں وہ پیغام خود ہی ڈیلیٹ کر دیا۔
سریم نے کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے ابتدا میں تفتیش کاروں کو میر رضا کے ساتھ گفتگو کے 25 اسکرین شاٹس فراہم کیے تھے، جن میں متعلقہ پیغامات بھی شامل تھے۔
کمیشن نے نوٹ کیا کہ مکمل چیٹ ریکارڈ اس کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، جس پر فوکل پرسن کو مکمل ریکارڈ حاصل کرنے کی ہدایت کردی گئی۔
کمیشن کے استفسار پر سریم نے بتایا کہ انہوں نے میر رضا کی کروڑوں روپے کی رقم سے متعلق درخواست کو سرمایہ کاری کا پیغام اس لیے سمجھا کیونکہ میر رضا مسلسل اپنے کاروبار کے بارے میں ان سے بات کر رہے تھے اور بظاہر فوری طور پر رقم حاصل کرنا چاہتے تھے۔
سریم کے مطابق انہیں یہ بھی خیال آیا کہ شاید میر رضا کو کرپٹو کرنسی میں نقصان ہوا ہو یا وہ کسی قرض کی واپسی کے لیے رقم حاصل کرنا چاہتے ہوں۔ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے میر رضا مشکلات کے دوران انہیں اپنی “آخری امید” سمجھ کر رابطہ کر رہے تھے۔
سریم نے بتایا کہ پولیس نے کال ڈیٹا ریکارڈ کے ذریعے ان کی معلومات حاصل کرنے کے بعد ان سے رابطہ کیا، جبکہ ان کا ابتدائی بیان بعد میں ایک دوسری تفتیشی ٹیم نے ریکارڈ کیا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ ان کے پولیس بیان کا کچھ حصہ میڈیا تک کیسے پہنچا۔ سریم نے کہا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں، تاہم انہوں نے سابق فیروزآباد ایس ایچ او عدیل افضل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے بیان انہوں نے فراہم کیا ہو۔میر رضا علی کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے سامنے سافٹ ویئر شعبے سے وابستہ کاروباری ساتھی سریم بن طاہر نے بھی اہم بیان ریکارڈ کرا دیا۔
سریم بن طاہر نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا نے ان سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد بہادرآباد میں واقع ریسٹورنٹ کی ایک برانچ میں ان کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران کلاؤڈ کچن کے کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو ہوئی۔
سریم کے مطابق میر رضا نے بعد میں ان سے پوچھا کہ کیا وہ کرپٹو کرنسی کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ انکار پر میر رضا نے بتایا کہ فوڈ بزنس کے علاوہ ان کے دیگر کاروبار بھی ہیں، جن میں گاڑیوں سے متعلق کاروبار بھی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے میر رضا کو مشورہ دیا کہ پہلے کاروباری ڈھانچے کو بہتر، کاروبار کو باقاعدہ رجسٹرڈ اور مالی حسابات کو منظم کیا جائے۔ بعدازاں دونوں نے کاروباری شراکت نہ کرنے پر اتفاق کیا۔
سریم نے بتایا کہ دسمبر اور جنوری میں ان کی میر رضا سے ملاقاتیں ہوئیں، جن میں تقریباً 30 سے 35 لاکھ روپے کے مالی معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ بعد میں میر رضا نے سرمایہ کاری کے حوالے سے ان سے رابطہ کیا اور جب وہ اپنے اسٹاف کے ساتھ دفتر میں موجود تھے تو میر رضا نے انہیں 3 کروڑ روپے سے متعلق ایک پیغام بھیجا، تاہم بعد میں وہ پیغام خود ہی ڈیلیٹ کر دیا۔
سریم نے کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے ابتدا میں تفتیش کاروں کو میر رضا کے ساتھ گفتگو کے 25 اسکرین شاٹس فراہم کیے تھے، جن میں متعلقہ پیغامات بھی شامل تھے۔
کمیشن نے نوٹ کیا کہ مکمل چیٹ ریکارڈ اس کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، جس پر فوکل پرسن کو مکمل ریکارڈ حاصل کرنے کی ہدایت کردی گئی۔
کمیشن کے استفسار پر سریم نے بتایا کہ انہوں نے میر رضا کی کروڑوں روپے کی رقم سے متعلق درخواست کو سرمایہ کاری کا پیغام اس لیے سمجھا کیونکہ میر رضا مسلسل اپنے کاروبار کے بارے میں ان سے بات کر رہے تھے اور بظاہر فوری طور پر رقم حاصل کرنا چاہتے تھے۔
سریم کے مطابق انہیں یہ بھی خیال آیا کہ شاید میر رضا کو کرپٹو کرنسی میں نقصان ہوا ہو یا وہ کسی قرض کی واپسی کے لیے رقم حاصل کرنا چاہتے ہوں۔ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے میر رضا مشکلات کے دوران انہیں اپنی “آخری امید” سمجھ کر رابطہ کر رہے تھے۔
سریم نے بتایا کہ پولیس نے کال ڈیٹا ریکارڈ کے ذریعے ان کی معلومات حاصل کرنے کے بعد ان سے رابطہ کیا، جبکہ ان کا ابتدائی بیان بعد میں ایک دوسری تفتیشی ٹیم نے ریکارڈ کیا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ ان کے پولیس بیان کا کچھ حصہ میڈیا تک کیسے پہنچا۔ سریم نے کہا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں، تاہم انہوں نے سابق فیروزآباد ایس ایچ او عدیل افضل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے بیان انہوں نے فراہم کیا ہو۔
کمیشن نے گواہ کے ریکارڈ کردہ پولیس بیان پر سوالات اٹھائے
میر رضا علی کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے گواہوں کے بیانات اور پولیس ریکارڈ میں سامنے آنے والے تضادات پر سوالات اٹھا دیئے۔
تین کافی شاپس اور ایک ریسٹورنٹ چلانے والے فیض الرحمن نے کمیشن کو بتایا کہ جون 2025 میں میر رضا نے فوڈ پانڈا سے متعلق ادائیگی کے لیے ان سے 2 لاکھ روپے مانگے تھے، جو انہوں نے دے دیے اور بعد میں میر رضا نے رقم واپس کردی۔
فیض الرحمن کے مطابق بعد ازاں میر رضا نے ان سے 10 لاکھ روپے مانگے، تاہم انہوں نے یہ رقم فراہم نہیں کی۔
انہوں نے بتایا کہ میر رضا کی ہلاکت کے وقت وہ بیرون ملک تھے اور 25 اگست کو پاکستان واپس آئے، جس کے بعد پولیس نے انہیں بیان ریکارڈ کرانے کے لیے بلایا۔
کمیشن نے پولیس کے ریکارڈ میں درج اس بیان سے متعلق سوال کیا جس میں میر رضا کی جانب سے مختلف افراد سے رقم مانگنے کا ذکر تھا۔ فیض الرحمن نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ میر رضا نے کسی پراپرٹی ڈویلپر کے بیٹے سے رقم مانگی تھی۔
ان کے مطابق اصل معاملہ صرف پراپرٹی ڈویلپر سلیم زکی کے بیٹے احسن کا رابطہ نمبر مانگنے سے متعلق تھا تاکہ مارکیٹنگ کے حوالے سے بات کی جاسکے۔ فیض الرحمن نے بتایا کہ میر رضا اور احسن ایک دوسرے کو ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے۔
فیض الرحمن نے یہ بھی تصدیق کی کہ میر رضا نے اپنے بھانجے سے 10 لاکھ روپے مانگے تھے، تاہم انہوں نے اسے خاندانی معاملہ قرار دیا۔
انہوں نے میر رضا کے ساتھ کرپٹو کرنسی پر گفتگو سے بھی انکار کیا، تاہم بتایا کہ پولیس نے ان سے کرپٹو کرنسی کے بارے میں سوالات کیے تھے۔
کمیشن نے سوال اٹھایا کہ جب فیض الرحمن کا معاملے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا تو پولیس نے انہیں کیوں طلب کیا۔ کمیشن نے ان کے بیان کو پولیس ریکارڈ میں درج کرنے کے طریقہ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
سماعت کے دوران 6 اگست کو فیض الرحمن اور علی شاز کے درمیان ہونے والی واٹس ایپ گفتگو کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیشن نے سوال کیا کہ آیا پولیس کے تفتیشی بیانیے کے کچھ حصے گواہوں کے سامنے رکھے بغیر ہی مرتب کیے گئے۔
اے ایس پی ندا کے کمیشن کے سوالات
میر رضا علی کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے اے ایس پی ندا سے کیس میں ان کے کردار، اہم گواہ علی شاز سے رابطے اور تفتیشی ٹیم کو پیغام بھیجنے سے متعلق سوالات کیے۔
سماعت کے دوران اے ایس پی ندا نے کمیشن کو بتایا کہ وہ بہادرآباد میں تعینات تھیں اور ان کا دفتر فیروزآباد تھانے میں تھا۔ پہلی تفتیشی ٹیم کے سربراہ سمیع اللہ سومرو نے انہیں کیس سے متعلق خواتین سے پوچھ گچھ کی ذمہ داری سونپی تھی۔
کمیشن نے سوال کیا کہ جب پہلی اور دوسری تفتیشی ٹیم میں ان کا نام شامل نہیں تھا تو انہوں نے کیس پر کام کیوں شروع کیا۔ ندا نے بتایا کہ کیس ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا تھا، تاہم پنجاب کے بعض سینئر پولیس افسران نے ان سے رابطہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ میر رضا کے جاننے والے ہیں۔
کمیشن نے علی شاز کے ساتھ ندا کے رابطے پر بھی سوالات کیے اور پوچھا کہ اگر انہیں باقاعدہ طور پر کیس کی ذمہ داری نہیں دی گئی تھی تو علی شاز نے ان سے کیوں رابطہ کیا، جبکہ وہ خاتون بھی نہیں تھا۔
ندا نے بتایا کہ علی شاز نے انہیں کہا تھا کہ وہ میر رضا سے تین مرتبہ مل چکا ہے اور آخری ملاقات دسمبر میں ہوئی تھی۔ انہوں نے بعد میں شاز کا پیغام تفتیشی ٹیم کو فارورڈ کیا اور ٹیم کو آگاہ کیا کہ کیس میں ان کا کوئی کردار نہیں۔
اے ایس پی ندا نے میڈیا کو وائس نوٹ فراہم کرنے کی بھی تردید کی۔
کمیشن نے پوچھا کہ کیا وائس نوٹ منظرعام پر آنے کے بعد علی شاز نے ان سے رابطہ کرکے اپنا نام ہٹانے کی درخواست کی تھی، جس پر ندا نے ایسے کسی رابطے سے انکار کیا۔
ندا نے تسلیم کیا کہ انہوں نے علی شاز کا بیان ریکارڈ نہیں کیا تھا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ علی شاز کا پیغام تفتیشی ٹیم کو بھیجنے سے کیس کے متنازع پہلو سامنے آنے میں کوئی کردار ادا ہوا یا نہیں۔ کمیشن نے ندا کے ایسے کیس میں مبینہ طور پر مداخلت کرنے پر بھی سوالات کیے جو ان کی تفویض کردہ ذمہ داری میں شامل نہیں تھا۔
ندا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے پاس آنے والے ہر شخص کی بات سننا ان کی ذمہ داری ہے۔
کمیشن نے جواب دیا کہ کسی کی بات سننا ذمہ داری کا حصہ ہوسکتا ہے، تاہم کسی تفتیش میں مداخلت کرنا ذمہ داری نہیں۔
عدالتی کمیشن نے ندا کے کال ڈیٹا ریکارڈ تک رسائی کا بھی حوالہ دیا اور علی شاز سے ان کے رابطوں کے اوقات اور تعداد سے متعلق سوالات کیے۔
میر رضا کے والدین کے وکیل جبران ناصر کی میڈیا سے گفتگو
وکیل جبران ناصر نے کہا کہ کیس کی تمام تفصیلات اے ایس پی ندا کے ذریعے آتی رہیں، اور اے ایس پی ندا کے مطابق انہیں سینئرز کی ہدایت تھی۔ اور ہماری یہی پریکٹس ہے۔
جبران ناصر نے کہا کہ میڈیکل بورڈ عدالت کے احکامات پر بنایا گیا لیکن میڈیکل بورڈ کے کسی رکن کا بیان آج تک ریکارڈ نہیں کیا گیا۔



