لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی عمران خان کی تینوں بہنوں کی نظر بندی کے احکامات کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
لاہور ہائی کورٹ میں بیرسٹر تیمور کی وساطت سے علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان کی نظر بندی کے احکامات کے خلاف درخواست دائر کی گئی۔
دائر کردہ درخواست میں پنجاب حکومت، محکمہ داخلہ، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔ جبکہ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کی نظر بندی کے احکامات کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کو اتوار کی دوپہر حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد پنجاب پولیس کی جانب سے دیگر دو بہنوں اور رشتہ داروں کے گھروں پر بھی چھاپے مار کر گرفتاریاں کی گئیں۔
عمران خان کی بہنوں کیخلاف نظربندی کا نوٹیفکیشن
پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل جاری کریک ڈاؤن کے دوران عمران خان کی تینوں بہنوں کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ تین (تھری ایم پی او) کے تحت حراست میں لے کر آئندہ 30 روز کے لیے نظربند کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کے آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تینوں بہنوں کو گرفتاری کے بعد لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی تحویل میں رکھا جائے گا۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پولیس اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس برانچ کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ زیرحراست بہنوں کی سرگرمیاں عوامی تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے نقصاندہ ہیں۔
پولیس کی جانب سے اُن پر 9 مئی کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش میں ملوث ہونے، کارکنوں کو سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے پر اُکسانے اور سوشل میڈیا و عوامی اجتماعات کے ذریعے کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔



