کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے عدالتوں سے سندھ کی صورتحال پر نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر اور وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ انتظامی یونٹس ہونے چاہئیں، کیونکہ ملک کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور اسی لیے انتظامی یونٹس میں اضافہ ضروری ہے۔
انہوں نے گزشتہ روز پارٹی کی نکالی جانے والی ریلی پر کہا کہ اب موروثی سیاست ختم کرنے کا وقت آگیا ہے۔ تمام رکاوٹوں اور پروپیگنڈے کے باوجود عوام نے کل تاریخ رقم کی، ایم کیو ایم کی ریلی عوامی ریفرنڈم تھی۔ اور سندھ کے شہری اب سڑکوں پر آکر اپنا فیصلہ سنا رہے ہیں۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ریلی نے بہت سی سازشوں اور منصوبوں کو خاک میں ملا دیا ہے، اور ہمارے نزدیک فیصلہ ہوچکا ہے تاہم وہ جانتے ہیں کہ ریلی کے بعد سازشوں کے نئے دروازے کھلیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 1970 کے بعد سے سندھ کے شہری علاقوں کی آبادی کم بتائی گئی ہے۔ جبکہ کراچی سندھ کی آبادی کا 37 فیصد نہیں بلکہ تقریباً 57 فیصد ہے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ صبر کبھی جبر کے ہاتھوں شکست نہیں کھاتا، ہم نے خون کی ندیاں پار کی ہیں اور ہمیں دھمکیوں سے نہ ڈرایا جائے۔ آپ کو معلوم نہیں کس قوم کو للکار رہے ہیں۔
خالد مقبول صدیقی نے سندھ میں گزشتہ 18 سال کے طرز حکمرانی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے عدالتوں سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے 18 سال سے سندھ چلانے کے طریقہ کار پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔
کل کی ریلی عوامی ریفرنڈم تھا، فاروق ستار
ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے گزشتہ روز ہونے والی ریلی کو عوامی ریفرنڈم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرا کے فیصلہ سنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کل کی ریلی نہیں بلکہ ریلا تھا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ انہوں ںے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے مظلوموں کا ساتھ دیا جس پر وہ میڈیا کے شکرگزار ہیں۔


