کوہاٹ: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت بتائے کہ لا اینڈ آرڈر کے لیے مختص ڈیڑھ سو ارب روپے کہاں خرچ کیے گئے، جس نے کام کرنا ہو وہ کام کر دیتا ہے، جس نے کام نہ کرنا ہو اسے سو بہانے اور سو عذر آتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت سے پوچھا جائے کہ ترقیاتی فنڈز کہاں خرچ کیے گئے، کوہاٹ میں ٹنل اور موٹروے جیسے منصوبے نواز شریف نے بنائے، مسلم لیگ ن ترقیاتی منصوبے لے کر آئی، صوبائی حکومت نے کیا کیا؟
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گیس اوربجلی کے مسائل کے حل کے لیے وفاق اپنا کردارادا کرے گا، ان مسائل میں بہتری بھی آئی ہے، تاہم اب صوبائی حکومت کو فنڈز کے بہانے کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مائننگ کے جتنے ٹھیکے دیئے گئے ہیں ان کا حساب لیا جائے گا، بتایا جائے کہ یہ ٹھیکے کس کو ملے، کس شفاف طریقے سے دیئے گئے، کس نے دیئے اورکس مقصد کے تحت دیئے گئے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے پہاڑوں کو کاٹا جا رہا ہے، درختوں کو کاٹا جا رہا ہے اورٹمبرالگ فروخت ہو رہا ہے، صوبے کے قدرتی وسائل کے ٹھیکے چند لوگوں کے پاس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سگریٹ فیکٹریاں پکڑی گئی ہیں اورڈھائی سے تین سو ارب روپے کی ٹیکس چوری ہو رہی ہے، کاش یہ رقم خیبرپختونخوا کے عوام پر خرچ کی جاتی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گولڈ مائننگ کے ٹھیکوں کی تفصیلات بھی سامنے لائی جائیں، بتایا جائے کہ یہ ٹھیکے کس کو دیے گئے اور کیا کسی شفاف طریقہ کار کے تحت دیے گئے یا من پسند لوگوں میں بانٹے گئے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ گولڈ مائننگ کے ایک ٹھیکے سے کروڑوں روپے کا ٹیکس جمع ہوتا ہے جو یہاں کے عوام کا حق ہے، لیکن ٹیکس وصولی صفر ہے، اس کا بھی جواب دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ٹمبر مافیا سے پوچھا جائے کہ پورے خیبرپختونخوا کی لکڑی کہاں جاتی ہے جبکہ صوبے کے تمباکو سے بھی ٹیکس وصول کیا جائے تاکہ اس رقم سے ترقیاتی کام کیے جاسکیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مائننگ کے ٹھیکوں سے لے کر سونے، معدنیات، ٹمبر اور تمباکو تک صوبے کے قدرتی وسائل سے متعلق تمام معاملات کا حساب لیا جائے گا، غیر قانونی مائننگ کے ذریعے من پسند لوگوں کو اجازت دے کر عوام کے حق پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی صدرپی ٹی آئی جنیداکبر اپنے اشتعال انگیز بیان پر قوم سے معافی مانگیں، ہم تعمیروترقی کےمنصوبے بناتےہیں، یہ تباہی کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے چھ مرتبہ کہا، آؤ مل کر بات کرتے ہیں
وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی سے متعلق سوال پر عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت نے متعدد مرتبہ بات چیت کی کوشش کی، وزیراعظم نے اسمبلی کے اندر چھ مرتبہ کہا کہ ہم بات چیت کرتے ہیں، ہم نے پہلے دن ہی کہا تھا کہ آؤ بیٹھو اور بات کرلو۔
انہوں نے کہا کہ ان میں کچھ لوگ سمجھ دار بھی ہیں، لیکن جب بھی بات ہوئی تو یہ لوگ غیر سیاسی باتیں، گالم گلوچ اور الزام تراشی کرتے رہے۔
ہم نے متعدد بارسنجیدہ کوششیں کیں، لیکن یہ بات چیت والے لوگ نہیں ہیں، اگربات چیت کرنی ہوتی تو بہت پہلے کرچکے ہوتے۔
عطا تارڑنے کہا کہ اب چڑھائی، جتھہ بندی اورپرتشدد احتجاج کی تیاری کی جا رہی ہے، ایسے احتجاج سے پاکستان کی تاجر برادری کو ایک دن میں 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ دکاندار، محنت کش، کسان اورمزدورکا کیا قصورہے کہ سڑکیں بند کردی جائیں اورکاروبارٹھپ ہوجائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت ترقی نہیں دے سکتی تو کم از کم ترقی کے عمل میں خلل تو نہ ڈالے، اسلام آباد کو بند کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی، مسلح جتھے کو اسلام آباد کی طرف آنے نہیں دیا جائے گا، پرامن احتجاج ان لوگوں کی روایت نہیں ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جوانوں کی قربانیوں کو خراج تحسین
وفاقی وزیر اطلاعات نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں شہید اور زخمی ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دھرتی کے بہادر جوانوں نے ملکی دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، سی ایم ایچ میں زیر علاج زخمی جوانوں کا جذبہ دیدنی ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ فوج اور پولیس کے جوانوں اورافسران نے بہادری سے آپریشن میں حصہ لیا، ہم سب مل کر دہشت گردی کا ناسور ختم کرکے دم لیں گے، بزدل دہشت گرد چھپ کر وار کر رہے ہیں لیکن دہشت گرد اس قوم کے جذبے کو کم نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، شہید فہیم کے والد نے بیٹے کی شہادت کو قابل فخر قرار دیا، ایسے والدین اور بہادر جوان پوری قوم کے لیے قابل فخر ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید
عطا تارڑ نے کہا کہ کوہاٹ کے افسوسناک واقعے کے وقت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کہاں تھے؟ سہیل آفریدی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے لاہور کی سڑکوں پر موجود تھے اور لاہور میں ٹک ٹاک بنا رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ ہم تعمیر و ترقی کے منصوبے بناتے ہیں، یہ تباہی کرتے ہیں۔ ان کی ساری توجہ مائننگ کے ٹھیکوں پر ہے، جبکہ صوبے کے عوام تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے منتظر ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سہیل آفریدی ڈیلیور نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں۔ ان کے پاس انتشار کی سیاست کے لیے وقت ہے، اپنے صوبے کی عوام کے لیے نہیں۔ تعلیم، صحت اور عوام کی فلاح کے لیے آپ نے کیا کیا ہے؟
عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی حکومت صرف سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگانا جانتی ہے، صوبے میں پولیس کی سہولت کے لیے فرانزک لیب تک موجود نہیں۔ من پسند لوگوں کو ٹھیکے دے کر پیسے وصول کیے جاتے ہیں اور صوبے میں کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے جنید اکبر کے اشتعال انگیز بیان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔
ہیلی کاپٹر کے استعمال پر بھی سوالات
وفاقی وزیر اطلاعات نے گورنر ہاؤس میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے آمد کے معاملے پر بھی تنقید کی، ہیلی کاپٹر سے اترنے کے انداز کو دیکھ کر انہیں پرانی فلمیں یاد آگئیں، جبکہ اس موقع پر بنائی گئی ویڈیو کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا کہ اسے کس نے بنایا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ اس دورے پر جتنا خرچ آیا ہے اس کے پیسے بھی سرکاری خزانے میں جمع کرائے جائیں، ہیلی کاپٹر کے استعمال کے معاملے پر نوٹس لیا جا رہا ہے اور اس کا مکمل احتساب ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کی ٹیکس چوری اور غیر قانونی مائننگ نہیں ہونے دی جائے گی، معاملے کی مکمل انکوائری ہوگی اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزیرنے واضح کیا کہ مائننگ، سونے، معدنیات، ٹمبر اورتمباکو سمیت خیبرپختونخوا کے قدرتی وسائل سے متعلق تمام معاملات کا حساب لیا جائے گا۔



