امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کیساتھ معاہدے کا اعلان کر دیا۔
ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکا نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ جس کے تحت تحت گرین لینڈ میں سلامتی اور دیگر تمام ضروریات کے حوالے سے امریکا کو مستقل کنٹرول حاصل ہو گا اور اس طرح امریکا کے تمام خدشات دور ہوجائیں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اس معاہدے پر امریکا کو کوئی خرچ نہیں اٹھانا پڑے گا۔ ہم نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے نمائندوں کے ساتھ مل کر اس بات کی ضمانت دی ہے کہ امریکا کو ہمیشہ کے لیے گرین لینڈ میں اپنی اور گرین لینڈ کی سلامتی کے تحفظ اور دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہو گی۔
خیال رہے گرین لینڈ تیل، گیس اور نایاب زمینی معدنیات کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے، اس لئے امریکا گرین لینڈ کو اپنی اور عالمی سلامتی کے لیے انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ قطب شمالی کے خطے میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی فوجی اور تجارتی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا اس جزیرے پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔
کسی بھی ملک کو ہماری منظوری کے بغیر گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت نہیں ہو گی
ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا اب سے امریکا کے کسی بھی مخالف ملک کو ہماری واضح تحریری منظوری کے بغیر گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم کرنے، فوجی موجودگی رکھنے یا حساس نوعیت کی سرمایہ کاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
BREAKING NEWS: I am pleased to announce that the United States of America has entered into an Agreement with The Kingdom of Denmark, and Greenland, that gives the United States permanent control over security, and all other needs, in Greenland, completely addressing ALL of our many U.S. concerns. There will be NO COST to the United States! At my direction, we worked with representatives of Denmark and Greenland to guarantee that the United States will FOREVER have the complete ability to do what is necessary in Greenland in order to secure and defend the security of Greenland, and the United States of America. Additionally, from now on, no U.S. adversary can EVER have a base in Greenland, have a military presence in Greenland, or make sensitive investments in Greenland, without our express written approval. For over 100 years, Presidents have known the strategic importance of Greenland, but NONE of them were able to do anything about it. I am proud to be the President that permanently and conclusively addressed this very important situation. This is an “Infinite Life” Agreement, there is no end! We are very honored and proud of what has just taken place, and everything agreed to today will be cherished by the American People. We will immediately begin the process of developing a large Military presence in the appropriate part of Greenland, of which there are many. We will work with the people of Greenland in its development and construction. This solution is a great one for the United States of America, Denmark, Greenland, and all of our Allies. We look forward to working with the wonderful people of Denmark and Greenland toward a magnificent future with respect to this large, and highly strategic, parcel of land. We will be very protective of it! This is a dream come true for the United States of America, one that is very important, historic, and special. Thank you for your attention to this matter! President DONALD J. TRUMP
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) September 19, 2026
ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ 100 سال سے زائد عرصے کے دوران امریکی صدور گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت سے آگاہ رہے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکا۔ مجھے فخر ہے کہ میں وہ صدر ہوں جس نے اس انتہائی اہم معاملے کو مستقل اور فیصلہ کن طور پر حل کر دیا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم فوری طور پر گرین لینڈ کے موزوں علاقوں میں بڑی فوجی موجودگی قائم کرنے کا عمل شروع کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کے شاندار عوام کے ساتھ مل کر اس وسیع اور انتہائی اسٹریٹجک خطے کے حوالے سے ایک شاندار مستقبل کی جانب بڑھنے کے منتظر ہیں۔
ایران جنگ کے خاتمے کے بعد گیس کی قیمتیں کم ہو جائیں گی، ٹرمپ
علاوہ ازیں اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ مجھے اس بات پرفخرہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو گا، جنگ جلد ختم ہو جائے گی، جس کے بعد گیس کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ گیس کی کم قیمتوں یا ایرانی جوہری ہتھیار کا معاملہ ہو تو فیصلہ بھاری اکثریت سے ہو گا، لوگ نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہو، اس کے لیے لوگوں کو کچھ اضافی قیمت دینا پڑے گی۔



