اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، علامہ راجہ ناصر عباس نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی تصدیق کر کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی لانگ مارچ سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا جس میں عدالت نے کہا تھا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے لیکن کسی سیاسی جماعت کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا سرکاری عمارات پر قبضے یا انہیں اپنے سیاسی اجتماع کے لیے بند رکھنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔ فیصلے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت اسلام آباد میں مارچ روکنے کے لیے اقدامات کرے گی اور منتظمین کو کسی بھی جانی نقصان کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔
علامہ راجا ناصر عباس نے وزیر داخلہ سے ملاقات کے سوال پر تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بالکل ملاقات ہوئی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ملاقات میں بانی پی ٹی آئی سے متعلق معاملات اور لانگ مارچ کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ یہ ملاقات محسن نقوی کی خواہش پر ہوئی، انہوں نے ملاقات کے لیے کسی سے درخواست نہیں کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات میں عمران خان اور لانگ مارچ سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی اور قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس سے بھی اہم ملاقات ہوئی، جس میں ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان حسین احمد یوسفزئی بھی موجود تھے۔
ملاقات میں 27 ستمبر کی کال کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی اور آئندہ کے لائحہ عمل، سیاسی حکمت عملی اور جمہوری جدوجہد کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
رہنماؤں نے مشاورت کی کہ 27 ستمبر کی کال کو آئین کی بالادستی، جمہوری حقوق، صوبوں کے حقوق اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے منظم سیاسی جدوجہد کے طور پر آگے بڑھایا جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
27 ستمبر کے لانگ مارچ کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے 18 ستمبر کو 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی سیاسی جماعت، سیاسی رہنما، صوبائی حکومت یا سرکاری عہدیدار کو اسلام آباد کی عوامی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنے یا شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، تعلیم اور طبی سہولیات تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ صوبائی حکومتیں اور وزرائے اعلیٰ سرکاری وسائل، گاڑیوں، مشینری اور سرکاری ملازمین کو اسلام آباد جانے والے کسی مارچ یا جلوس کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی سرگرمی آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔
محسن نقوی کی پریس کانفرنس
عدالتی فیصلے کے فوراً بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے کے بعد وفاقی دارالحکومت کی طرف دھاوا نہیں بولا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاج یا مارچ کی کوشش کی تو پہلے توہین عدالت کی کارروائی ہوگی جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خلاف ورزی کی صورت میں ہر ممکن طریقے سے روکنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ سیاسی سرگرمی اور مسلح جتھے کی صورت میں آنے میں فرق ہے، احتجاج کرنا ہے تو اپنے شہر اور علاقے میں کیا جائے، تاہم اسلام آباد کو بند کرنے یا کسی دوسرے صوبے میں جاکر بدامنی پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر احتجاج کے دوران کوئی جانی نقصان ہوا تو اس کے ذمہ دار احتجاج منظم کرنے والے ہوں گے۔ انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں سے بھی کہا کہ لڑائی سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور سیاسی معاملات بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوتے ہیں۔
محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ وہ ذاتی طور پر اسلام آباد میں کنٹینرز لگانے کے حق میں نہیں، تاہم اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں ضروری سمجھیں تو یہ اقدام کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق کوشش ہوگی کہ اسلام آباد کے شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
لانگ مارچ پرامن ہو گا، سہیل آفریدی
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ پرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد ہوگا اور وہ کسی تصادم کے خواہاں نہیں۔ ان کے مطابق شہریوں کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور اجتماع کا حق حاصل ہے۔
یوں 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں جبکہ عدالتی فیصلے کے بعد احتجاج کے قانونی دائرہ کار اور اسلام آباد میں امن و امان کے حوالے سے حکومت کا مؤقف مزید واضح ہوگیا ہے۔



