قومی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر شاداب خان کے معاملے پر پاکستان کے سابق مایہ ناز اسپنرز توصیف احمد اور ثقلین مشتاق آمنے سامنے آ گئے۔ دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات لگائے۔
سابق چیف سلیکٹر توصیف احمد نے سابق پاکستانی بلے باز فواد عالم کی میزبانی میں ہونے والے پوڈ کاسٹ کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ سابق کوچ ثقلین مشتاق اپنے داماد شاداب خان کو ٹیم میں کھلانے کے لیے ان پر زور دیتے تھے۔ مجھے فون پر شاداب کے معاملے میں نرمی برتنے کا کہا گیا۔
توصیف احمد نے کہا کہ جب میں سلیکٹر تھا تو ثقلین مشتاق نے کہا کہ شاداب کو دیکھ لینا، ثقلین مشتاق کا اس حوالے سے وائس نوٹ بھی میرے پاس موجود ہے، اسے ریکارڈ پر ثابت کر سکتا ہوں۔
توصیف احمد نے ثقلین مشتاق پر شاداب خان کے حوالے سے حد سے زیادہ حمایت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ثقلین کو شاداب کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا، پسند ناپسند کی بھی ایک حد ہونی چاہیے۔
Tauseef Ahmed says he has recording of Saqlain trying to influence him to select Shadab Khan https://t.co/z2yv7DB4Kr
— Ghumman (@emclub77) September 18, 2026
سابق ٹیسٹ کرکٹر کا مزید کہنا تھا کہ ثقلین مشتاق نے دنیا کو جا جا کر اسپن باؤلنگ بتائی لیکن اپنے ملک میں کیا کیا؟
توصیف احمد نے شاداب خان کی فٹنس پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ مبینہ طور پر ان فٹ ہونے کے باوجود مختلف جگہوں پر جاتے رہے اور پھر انہیں فیور بھی کیا جاتا رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف ماضی میں بہترین کرکٹ کھیلنے کی شہرت کی بنیاد پر سابق عظیم کھلاڑیوں کو کوچنگ کے مواقع نہیں ملنے چاہئیں۔ پاکستان کے بعض سابق کھلاڑی جنہوں نے اپنے دور میں کامیاب کرکٹ کھیلی، وہ کوچنگ کے شعبے میں آنے کے بعد ناکام ہوئے۔
توصیف احمد نے کہا کہ کہ نوجوان کھلاڑیوں کو اسکواڈ کے ساتھ رہنے اور تجربہ حاصل کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں، خراب کارکردگی کے بعد کسی نوجوان کھلاڑی کو ٹیم سے باہر کیوں کر دیا جائے؟ سفیان کا کیا قصور ہے؟ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ اسے ہر صورت کھلاتے رہیں لیکن اسے ٹیم کے ساتھ رکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کم تجربہ کار کھلاڑی کو بین الاقوامی دورے پر لے جانے سے اسے اعلیٰ درجے کی کرکٹ سے روشناس ہونے کا موقع مل سکتا ہے اور اس کی صلاحیتیں زیادہ تیزی سے نکھر سکتی ہیں۔
توصیف احمد کے الزامات پر ثقلین مشتاق نے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا ہے کہ آپ کے پاس میرا وائس میسج موجود ہے، تو اسے ثابت کریں اور عوام کے سامنے جاری کریں، میں نے آپ کو احترام کے ساتھ فون کیا تھا کیونکہ میں آپ کو اپنا سینئر سمجھ کر عزت دیتا تھا۔
Mr. Tauseef Ahmed, you said you have my voice message—prove it. Release it publicly. I called you out of respect, because I respected you as a senior. Don’t lie, don’t hide, and don’t twist the facts. I have the full record too. Release yours, and I’ll release mine. Let the public hear the truth.
— Saqlain Mushtaq (@Saqlain_Mushtaq) September 18, 2026
ثقلین مشتاق نے مزید کہا کہ جھوٹ نہ بولیں، حقائق نہ چھپائیں اور نہ ہی معاملے کو توڑ مروڑ کر پیش کریں۔ میرے پاس بھی اس معاملے کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ اگر توصیف احمد اپنا ریکارڈ عوام کے سامنے لاتے ہیں تو میں بھی ریکارڈ عوام کے سامنے لاؤں گا۔
ثقلین مشتاق کا کہنا تھا کہ معاملے کا فیصلہ عوام پر چھوڑا جائے تاکہ وہ دونوں جانب کی بات سن کر خود حقیقت جان سکیں۔



