پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے پی ٹی آئی کے مجوزہ 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر باضابطہ کارروائی شروع کر دی۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے تمام انتظامی اور پولیس افسران کو مراسلہ جاری کردیا، جس میں کسی بھی مارچ یا ریلی کے لیے سرکاری وسائل، فنڈز، گاڑیوں، مشینری اور دیگر سرکاری ذرائع کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
مراسلے میں تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ اسلام آباد کی جانب کسی مارچ، ریلی یا جلوس کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہ ہونے دیے جائیں۔
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر سرکاری اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوگی
مراسلے کے مطابق عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی، سرکاری ملازمین کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اگر ان پر کسی سیاسی سرگرمی میں شرکت یا سرکاری وسائل استعمال کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے یا انہیں ترغیب دی جائے تو فوری طور پر متعلقہ ہیلپ لائن پر اطلاع دیں۔
خیبرپختونخوا حکومت کے مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں شہریوں کی آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں اور معمولات زندگی کو متاثر کرنے والی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی لانگ مارچ سے متعلق فیصلہ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 18 ستمبر کو جاری کیے گئے 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت، سیاسی رہنما، صوبائی حکومت یا عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کو اسلام آباد کی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا دیگر عوامی مقامات پر اس انداز میں قبضہ کرنے کا قانونی اختیار نہیں جس سے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، تجارت یا اسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک رسائی متاثر ہو۔
عدالت نے تمام صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی کہ 27 ستمبر کے مجوزہ مارچ، ریلی یا جلوس کے لیے سرکاری وسائل، عوامی فنڈز، سرکاری افسران، گاڑیاں، مشینری یا دیگر سرکاری آلات براہ راست یا بالواسطہ استعمال نہ ہونے دیے جائیں۔
فیصلے میں سرکاری ملازمین کو کسی مارچ یا سیاسی سرگرمی میں شرکت پر مجبور، آمادہ یا دباؤ میں لانے سے بھی روکا گیا جبکہ خلاف ورزی کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ پرامن اجتماع اور سیاسی احتجاج آئینی حق ہے، تاہم یہ حق آئین اور قانون کے تابع ہے اور اس کے استعمال سے دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ عدالت نے شہریوں کے حقِ زندگی، آزادی، عزت، آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، جائیداد اور اسپتالوں و تعلیمی اداروں تک رسائی کو بھی مدنظر رکھنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے اسلام آباد انتظامیہ اور وزارت داخلہ کو شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے جبکہ چیف سیکرٹریز اور صوبائی پولیس سربراہان کو فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔



