ایرانی سفارتخانے کے اہلکار کو ملک سے نکالنے کے فیصلے پر ایران نے بھی سویڈن کے سفارتکار کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
ایرانی نیوز ایجنسی مہر کے مطابق ایران نے اسٹاک ہوم میں ایرانی سفارتخانے کے ایک ملازم کو مبینہ سکیورٹی خدشات کے باعث ملک بدر کرنے کے سویڈن کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بلاجواز اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے سویڈن کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے سویڈن کی ایران پالیسی کو تباہ کن قرار دیا۔
سکیورٹی امور میں مداخلت سے متعلق اسٹاک ہوم کے الزامات بے بنیاد ہیں، ایران
اس کے علاوہ ایران نے سکیورٹی امور میں مداخلت سے متعلق اسٹاک ہوم کے الزامات بے بنیاد قرار دیئے اور ایران مخالف عناصر کو سویڈن میں سرگرمیوں کی اجازت دینے پر اعتراض اٹھایا۔
وزارت خارجہ کے مطابق سویڈش سفیر کو ایرانی سفارتکار سے متعلق سویڈن کے فیصلے سمیت دیگر معاملات پر بھی ایران کے خدشات سے آگاہ کیا گیا، جن میں سویڈن کی جانب سے ایران مخالف دہشتگرد عناصر اور گروہوں کی میزبانی بھی شامل ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ سویڈن نے اسرائیلی حکومت کے دباؤ پر ایرانی اہلکار کو نکالنے کا فیصلہ کیا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی قوانین بالخصوص 1961 کے ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے تحت سویڈن کو خبردار کیا کہ ایران اپنے قومی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
سویڈش حکام کا ایران پر سویڈن مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام
قبل ازیں سویڈش حکومت کا کہنا تھا کہ ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار کو ملک سے بے دخل کر دیا ہے۔ مذکورہ اہلکار کو ایسی سرگرمیوں کے باعث سویڈن چھوڑنے کا حکم دیا گیا جو ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
سویڈن کی وزیر خارجہ ماریا مالمر اسٹینرگارڈ نے کہا کہ یہ فیصلہ سویڈش شہریوں اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔جبکہ وزیر انصاف گنار شٹرومر نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایران طویل عرصے سے سویڈن کے خلاف سکیورٹی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔



