پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے بھارت میں شیڈول ایشین چیمپئنز ٹرافی کے میچز میں شرکت کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے ٹورنامنٹ کو غیرجانبدار مقام پر منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
پی ایچ ایف کے صدر محی الدین احمد وانی کے مطابق ٹورنامنٹ بھارت میں کرانے کے بجائے اسے کسی نیوٹرل وینیو پر منتقل کیا جائے، یا کم از کم پاکستان کے تمام میچز غیرجانبدار مقام پر منعقد کیے جائیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان کی بھارت روانگی حکومتی منظوری سے بھی مشروط ہے۔
مردوں کی ایشین چیمپئنز ٹرافی 27 اکتوبر سے 5 نومبر 2026 تک بھارت کے صوبہ پنجاب میں شیڈول ہے، لیگ مرحلے کے میچز جالندھر میں جبکہ سیمی فائنلز اور فائنل موہالی میں کھیلے جانے ہیں۔
ٹورنامنٹ میں پاکستان، بھارت، چین، جاپان، ملائیشیا اور جنوبی کوریا کی ٹیمیں شامل ہیں جبکہ بنگلہ دیش اور عمان کو متبادل ٹیموں کے طور پر رکھا گیا ہے۔
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کا پاکستان کی شرکت کا دعویٰ
دوسری جانب بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگوت مان نے چند روز قبل کہا تھا کہ پاکستان ایشین چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کے لیے بھارت آئے گا۔
بھگوت مان کے مطابق پاکستان سمیت ایشیا کی چھ بڑی ٹیمیں ٹورنامنٹ میں حصہ لیں گی، انہوں نے کہا تھا کہ اگرچہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ سیریز نہیں ہورہی تاہم دونوں ممالک کثیر ملکی مقابلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کھیل سکتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کا مقابلہ یکم نومبر کو طے
موجودہ شیڈول کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ یکم نومبر کو جالندھر میں ہونا ہے تاہم پی ایچ ایف کی جانب سے نیوٹرل وینیو کا مطالبہ اور پاکستان کی شرکت کے لیے حکومتی منظوری کی ضرورت کے باعث پاکستان کی شرکت کی حتمی صورتحال ابھی واضح نہیں ہے۔
محسن نقوی سے ٹرافی نہ لینے کا تنازع
پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کے میدان میں حالیہ کشیدگی کا ایک نمایاں واقعہ ایشیا کپ کرکٹ 2026 کی اختتامی تقریب میں بھی سامنے آیا، جب بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین اور پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی۔
بھارت نے سری لنکا کو شکست دے کر ایشیا کپ جیتا تاہم بھارتی ٹیم نے محسن نقوی کے ہاتھ سے ٹرافی لینے سے انکار کردیا اور تقریب میں ٹرافی وصول کیے بغیر ہی جشن منایا، یہ واقعہ 2025 کے ایشیا کپ کے دوران پیش آنے والے اسی نوعیت کے تنازعے کے بعد دوبارہ سامنے آیا۔
یہ صورتحال اس پس منظر میں اہم ہے کہ ایک طرف کرکٹ میں پاک بھارت تعلقات کی کشیدگی کے اثرات نظر آئے جبکہ دوسری جانب بھارتی پنجاب میں ہونے والی ایشین چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی شرکت کی باقاعدہ تصدیق کردی گئی ہے۔
پس منظر
پاکستان نے اس سے قبل بھی بھارت میں ہونے والے ہاکی مقابلوں میں سکیورٹی اور دوطرفہ تعلقات سے متعلق صورتحال کے باعث نیوٹرل وینیو کا مطالبہ کیا ہے۔ 2025 میں پاکستان نے بھارت میں ہونے والے ایشیا کپ سے دستبرداری اختیار کی تھی اور نیوٹرل مقام پر مقابلے کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔
موجودہ ایشین چیمپئنز ٹرافی کے معاملے میں بھی پی ایچ ایف کا مؤقف ہے کہ اگر پاکستان کو بھارت میں کھیلنا ہے تو سکیورٹی اور دیگر متعلقہ امور کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب انتظامات ضروری ہیں جبکہ فیڈریشن نے ٹورنامنٹ یا کم از کم پاکستان کے میچز نیوٹرل وینیو پر منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگوت مان کی جانب سے پاکستان کی شرکت کی بات سامنے آنے کے باوجود پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اپنی طرف سے نیوٹرل وینیو کا مطالبہ کیا ہے اور پاکستان کی بھارت روانگی حکومتی منظوری سے مشروط ہے۔



