معروف برطانوی ناول نگار اور سابق سیاست دان جیفری آرچر 86 برس کی عمر میں انتقال کرگئے، 5 دہائیوں پر محیط ادبی سفر میں ان کی 30 کروڑ سے زائد کتابیں فروخت ہوئیں۔
جیفری آرچر کے پبلشر ہارپرکولنز کے مطابق مصنف کا انتقال ان کے اپنے گھر میں ہوا۔
پبلشر نے انہیں “ماسٹر اسٹوری ٹیلر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے قارئین ان کے لیے سب کچھ تھے۔جیفری آرچر کی آخری کتاب ’Adam and Eve‘رواں ہفتے شائع ہونے والی ہے۔
30 کروڑ سے زائد کتابیں فروخت
5 دہائیوں پر محیط تحریری کیریئر کے دوران ان کی 30 کروڑ سے زائد کتابیں فروخت ہوئیں۔ ان کی معروف تصانیف میں’Kane and Abel‘ اور ’Clifton Chronicles‘ شامل ہیں۔
ان کے ناولوں میں اکثر ان کے آبائی علاقے ویلنگٹن، سمرسیٹ کو بھی پس منظر کے طور پر شامل کیا گیا۔
پبلشر کے مطابق انتقال سے ایک روز قبل جیفری آرچر لندن کے لیسٹر اسکوائر تھیٹر میں براڈکاسٹر گلز برینڈریتھ کے ہمراہ اپنی نئی کتاب کے حوالے سے ایک تقریب میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے مداحوں کو کتابوں پرآٹو گراف دئیے۔
آخری کتاب کو اپنا آخری ناول قرار دیا تھا
گلز برینڈریتھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جیفری آرچر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے صرف ایک روز قبل ان کے ساتھ نئے ناول کی تقریب میں شرکت کی تھی۔
I can’t believe that Jeffrey Archer – who was always so alive – is suddenly dead. We had a wonderful day together yesterday – as anyone who was there will tell you, he was in brilliant form on stage yesterday celebrating the publication of his 50th and final best-selling novel. https://t.co/14dlzi2yBf
— Gyles Brandreth (@GylesB1) October 5, 2026
برینڈریتھ کے مطابق آرچر نے کہا تھا کہ یہ ان کا آخری ناول ہوگا۔ انہوں نے انہیں انتہائی خوش مزاج، دلچسپ اور عمدہ کہانی سنانے والا قرار دیا۔
برینڈریتھ نے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ جیفری آرچر ایک “بہت بڑی شخصیت” تھے اور جیل سے رہائی کے بعد ایک زیادہ نرم مزاج انسان بن گئے تھے۔
سیاست میں بھی فعال رہے
جیفری آرچر 15 اپریل 1940 کو شمالی لندن میں پیدا ہوئے تاہم جلد ہی ان کا خاندان سمرسیٹ کے ویسٹن سپر میئر منتقل ہوگیا۔
1969 میں وہ لنکن شائر کے حلقے لوتھ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ انہوں نے پانچ سال تک رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جس کے بعد وہ کنزرویٹو پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین بن گئے۔
جیفری آرچر کا سیاسی کیریئر 2001 میں اس وقت متاثر ہوا جب انہیں جھوٹی گواہی دینے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں 4 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
وہ 1987 میں ‘ڈیلی اسٹار’ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ لے کر گئے تھے جس میں انہیں 5 لاکھ پاؤنڈ ہرجانہ بھی ملا تھا، تاہم بعد میں ثابت ہوا کہ انہوں نے مقدمے کے دوران جھوٹ بولا تھا۔وہ 2003 میں جیل سے رہا ہوئے اور بعد ازاں ہاؤس آف لارڈز میں واپس آئے۔ 2024 میں انہوں نے ایوان بالا سے ریٹائرمنٹ لے لی۔
شادی کی 60ویں سالگرہ
ہارپرکولنز کے مطابق جیفری آرچر اور ان کی اہلیہ میری نے رواں سال اپنی شادی کی 60ویں سالگرہ منائی تھی۔ ان کے دو بیٹے اور پانچ پوتے پوتیاں ہیں۔
آرچر ہفتے کو چیلٹنہیم فیسٹیول میں اپنی آخری کتاب کے حوالے سے گفتگو کے لیے شرکت کرنے والے تھے۔
سیاسی و ادبی شخصیات کا خراج عقیدت
برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ کیمی بیڈناک نے جیفری آرچر کے انتقال کو “بڑا صدمہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آرچر نے اسی صبح انہیں ایک محبت بھرا پیغام بھیجا تھا اور وہ ذاتی طور پر ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔
This is a huge shock. I am incredibly saddened to hear this news. He had sent me a lovely message just this morning and was always a great source of encouragement to me personally. I can’t believe he’s gone.
He was a dear friend to so many of us and the Conservative Family will be reeling at this news.
Our thoughts are with Dame Mary and all their family at this time.
— Kemi Badenoch (@KemiBadenoch) October 5, 2026
ہارپرکولنز یو کے کی چیف ایگزیکٹو اور جیفری آرچر کی ایڈیٹر کیٹ ایلٹن نے انہیں “ماسٹر اسٹوری ٹیلر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرنا ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے عظیم اعزازات میں سے ایک تھا۔
سابق برطانوی کنزرویٹو چانسلر ندیم زاہاوی نے بھی انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے “عزیز دوست اور غیر معمولی انسان” قرار دیا۔
Jeffrey Archer was a dear friend and an extraordinary human being. His gift for storytelling was matched by his wit, warmth and boundless energy. Life was never dull in Jeffrey’s company.
As a charity auctioneer, he was a force of nature: commanding a room, making people laugh and persuading them to dig deeper. He used that remarkable talent to raise millions for charitable causes, leaving a legacy of generosity that reaches far beyond his books.
Behind the celebrated author was a man with an enormous heart, fiercely loyal to his friends and generous with his time.
My love and deepest condolences go to Mary and the whole family.
Jeffrey, it was a privilege to call you my friend. You were one of a kind. May you rest in eternal peace. 💔
— Nadhim Zahawi (@nadhimzahawi) October 5, 2026



