اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کی کارروائیاں علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں خطے کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔
دونوں سربراہان مملکت کے درمیان رابطہ ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے۔ یمن کے حوثی جنگجوؤں نے رواں ہفتے کے آغاز میں سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے کیے تھے، جن میں 73 افراد زخمی ہوئے۔ اس سے ایک روز قبل عراق سے بھیجے گئے ڈرونز نے سعودی عرب کی ایک اہم تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا تھا، جس کے باعث اسے عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیلیفونک گفتگو میں سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کی کارروائیاں علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ یہ کارروائیاں عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی میں مزید خلل کا باعث بن سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ہمراہ کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔
Telephone Call between the Prime Minister and Saudi Crown Prince His Royal Highness Prince Mohammed bin Salman.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif held a telephonic conversation with His Royal Highness Prince Mohammed bin Salman bin Abdulaziz Al Saud, Crown Prince & Prime… pic.twitter.com/bHABfUVhBu
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) September 13, 2026
شہباز شریف نے موجودہ بحران کے دوران دانشمندانہ قیادت پر سعودی ولی عہد کو خراج تحسین پیش کیا اور خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کی مسلسل حمایت اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کوششوں کو سراہا۔ جبکہ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور جلد ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے مختلف علاقوں پر حوثیوں کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز بھی سعودی شہر جازان میں یمنی حوثیوں کی جانب سے میزائل داغے گئے جس میں دو افراد زخمی ہوئے۔ جبکہ ایک مسجد، متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
چند روز قبل بھی حوثی گروپ نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔
دو روز قبل سعودی عرب کے شہروں ریاض اور مدینہ میں ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کیے گئے، جس کے بعد سعودی عرب نے پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا۔ تاہم سعودی اور عراقی حکام کے مطابق پائپ لائن پر حملہ عراق سے کیا گیا تھا، جہاں ایران نواز ملیشیا سرگرم ہیں۔
خیال رہے کہ امریکا، سعودی عرب اور دیگر مغربی و عرب اتحادی ممالک طویل عرصے سے یہ الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ ایران یمن کے حوثی جنگجوؤں (تحریک انصار اللہ) کو عسکری سازوسامان، ٹیکنالوجی اور مالی امداد فراہم کرتا ہے۔
گزشتہ ماہ اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور معاہدے میں شامل ممالک کو یہ اختیار دینا تھا کہ ان میں سے کسی ایک پر حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے۔
رواں ہفتے کے آغاز میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا تھا کہ اگر یمن میں جاری تنازع سعودی عرب تک پھیلتا ہے تو یہ معاہدہ فعال ہو سکتا ہے۔
تاہم دفتر خارجہ نے جمعرات کو ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا تھا کہ پاکستان یمن میں حوثی اہداف کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ مل کر فوجی کارروائیوں میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نئے دستخط شدہ دفاعی معاہدے کو ابھی حتمی شکل دی جا رہی ہے، اس لیے فی الحال اسے فعال ہونے یا اس پر عملی طور پر عمل درآمد کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔


