پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے جوڈیشل کمیشن کے روبرو بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان تاجر میر رضا کے چہرے اور بائیں ہاتھ پر کیمیکل سے جلنے کے نشانات موجود تھے۔ مجھے پیغام پہنچایا گیا کہ اگر میں کیس کو خودکشی ظاہرکرتی ہوں تو مجھ پر تفتیش کا ہلکا ہاتھ رکھا جائے گا۔
جوڈیشل کمیشن کا ساتواں اجلاس جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ہوا جس میں سربراہ جوڈیشل کمیشن نے پوچھا کہ میر رضا کی والدہ تاخیر سے کیوں آتی ہیں؟ جس پر میر رضا کی بہن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ والدہ بینک میں ملازمت کرتی ہیں، چھٹی لیکر آتی ہیں۔
ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ میں نے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جس میں ماہرین شامل تھے، ڈاکٹر نسیم کا 30 سالہ تجربہ ہے۔
سربراہ جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ کیا آپ کو سیشن کورٹ نے ہدایت دی تھی؟ ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ جی ہمیں احکامات جاری ہوئے تھے، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان سے ملاقات کیلئے بورڈ اراکین موجود تھے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ ہم نے لیب سے کچھ تجزیئے حاصل کیے، لیب نے بتایا کہ لیکویڈ انجکشن کے ذریعے نبض میں لگایا گیا، ڈاکٹر سمعیہ نے میر رضا کے اہلخانہ سے سوال کیا کہ کیا میر رضا نے کوئی ڈینٹل سرجری کروائی تھی؟اہلخانہ نے کہا کہ میررضا کی کوئی ڈینٹل سرجری نہیں ہوئی۔
کراچی کے 25 سالہ تاجر میر رضا علی میر کی جولائی 2026ء کے آخر میں مبینہ قتل کا کیس ملک بھر میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ میر رضا 28 جولائی کو کراچی سے لاپتہ ہوئے اور اگلے روز ان کی لاش گلستان جوہر کے علاقے سے ملی۔ پولیس ابتدائی طور پر اسے خودکشی قرار دے رہی تھی، جبکہ لواحقین کا مؤقف تھا کہ انہیں اغوا کے بعد تشدد کرکے قتل کیا گیا ہے۔ اہلخانہ کے اصرار پر عدالت نے قبر کشائی کا حکم دیا۔ سندھ فرانزک لیبارٹری کی رپورٹس میں تصدیق ہوئی کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے خون کے نمونے مقتول کے ہیں، جبکہ خون میں جسم سُن کرنے والی دوا کے آثار بھی پائے گئے۔
ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ میر رضا کے دل سے مختلف نمونے ملے ہیں، نمونوں سے لگا کہ میر رضا نے کوئی دوا لگائی تھی یا اسے لگائی گئی، کمیشن کے سربراہ نے پولیس سرجن سے سوال کیا کیا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ خود کشی تھی؟ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ ٹرم آف ریفرنس پر 14 سوالات اٹھائے تھے اور اس پردوبارہ پوسٹ مارٹم کیا، جب میں یہ کام کر رہی تھی ، موٹر سائیکل سوار نے میرا پیچھا کیا ، مجھے دھمکیاں دی گئیں کہ میں معاملےسے پیچھے ہٹ جاؤں ، میں کہتی ہوں کہ دوبارہ کسی ایسے کیس کا کام ملا،میں کرتی رہوں گی ، میں نے این سی سی آئی اے میں بھی شکایت درج کی ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر میرے گھر اور رشتہ داروں کے ایڈریس شیئر کیے جا رہے ہیں ، مجھے پیغام پہنچایا گیا کہ اگر میں کیس کو خودکشی ظاہر کرتی ہوں تو مجھ پر تفتیش کا ہلکا ہاتھ رکھا جائیگا۔ سربراہ کمیشن نے کہا کہ
کس سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر آ پ کے ایڈریس شیئر کیے جا رہے ہیں؟ ہم آپ کو رینجرز کی سکیورٹی فراہم کر دیتے ہیں، ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ مجھے سکیورٹی نہیں چاہیے۔
کمیشن کے سربراہ نے ڈاکٹر سمعیہ کو ہدایت کی کہ آپ یہ تمام باتیں وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی کو بتائیں ، اس کے علاوہ کمشین کے سربراہ نے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ ڈاکٹر سمعیہ محفوظ رہنی چاہیے،یہ بات حکام بالا کو بتا دی جائے۔
ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ اگر میری نوکری رہی تو پوسٹ مارٹم کی سی سی ٹی وی کے حوالے سے کام کروں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے ڈاکٹر اسامہ کو نہیں پھنسایا اورنہ ہی کچھ ایسا کیا، ڈاکٹر اسامہ نےغلطیاں ضرور کی ہیں لیکن اچھے پوائنٹس بھی رپورٹس میں لکھے ہیں ، ڈاکٹر اسامہ نے میر رضا کا دل سے سیمپل لیا، کراچی یونیورسٹی کے سینٹر نے شرٹ پر بتایا ہائیڈروکلورک ایسڈ پایا گیا تھا۔
کمشین کے سربراہ نے سوال کیا کہ کیا آپ تمام کیسزمیں ایسی معلومات اکٹھا کرتی ہیں؟ جس پر ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ جی میں ہرکیس میں یسی معلومات اکٹھا کرتی ہوں۔
ڈاکٹر سمعیہ نے کمشین کو بتایا کہ نمونے تاخیر سے بھیجنے میں نتائج متاثر ہو سکتے ہیں، جوڈیشل کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ 3 اگست کو آپ نے خط لکھ کر قبر کشائی کی سفارش کی تھی؟ ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ 2 اگست کو ایس ایس پی ایسٹ سے گفتگو میں خدشات کا اظہار کیا تھا، 3 اگست کو قبر کشائی کیلئے خط لکھا، 5 اگست کو قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کا کہا۔
جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل کس طرح کی جاتی ہے؟ جس پر ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ عدالت سیکرٹری صحت یا ڈی جی ہیلتھ سروسز کو ہدایت جاری کرتی ہے، عدالت براہ راست پولیس سرجن کو بھی ہدایت جاری کر سکتی ہے، عدالتی حکم موصول ہونے کے بعد سیکرٹری صحت اور دیگر کو مطلع کیا تھا۔
ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ قبر کشائی کے موقع پر تفتیشی افسر اور جوڈیشل مجسٹریٹ موجود تھے، ہم عام طور پر ایسے معاملے میں فیملی کو اجازت نہیں دیتے۔
کمیشن کے سربراہ نے استفسار کیا کہ آپ لوگوں کا سیمپل لینے کا طریقہ کیسا ہے؟ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ سیمپل لینے کا طریقہ ویڈیو کے ذریعے دکھانا چاہتی ہوں، استدعا ہے میر رضا کے اہلخانہ باہر چلے جائیں، ہم نے 236 تصاویر لی تھیں، گولی کا نشان بھی دیکھا، گولی دل کے دائیں جانب سے نکلی تھی، میں جو باتیں یہاں کر رہی ہوں وہ اپنی رپورٹ میں لکھی ہیں، رپورٹ میں آنیوالے شواہد کے حوالے سے عامر فاروقی کو بتایا تھا۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ آپ جو کچھ بتا رہی ہیں وہ اہم ہیں، ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ گردن، کمر اور جسم کے بہت سے حصوں کا مشاہدہ پہلے پوسٹ مارٹم میں نہیں کیا گیا، ہم نے اپنی رپورٹ میں گردن، کمر اور جسم کے بہت سے حصوں کا مشاہدہ کیا، پوسٹ مارٹم سے متعلق بہت سی باتیں میڈیا پر رپورٹ نہیں ہوئیں۔
پولیس سرجن نے مزید بتایا کہ میں نے تفتیشی ٹیم کو کہا کہ معاملے پر تفتیش کو آگے بڑھائیں، ہم نے 14 سوالات کے جوابات تلاش کیے، کمرہ عدالت میں پہلے پوسٹ مارٹم کی تصاویر دکھائی گئیں، جس میں میر رضا کے چہرے پر کیمیکل سے جلنے کے نشانات موجود تھے۔ میر رضا کی کمر سے گولی سینے کی طرف آئی۔
ڈاکٹر سمعیہ نے کمیشن کو بتایا کہ جس وقت پوسٹ مارٹم کیا، میر رضا کا خون ڈاکٹر اسامہ کے کپڑوں پر لگا، میر رضا کے بائیں ہاتھ پر کیمیکل سے جلنے کے نشانات تھے، کیمیکل سے ہونیوالی تبدیلیوں کے اثرات کی رپورٹ موجود ہے، کرائم سین پر موجود تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بائیں ہاتھ کی مٹھی بند تھی، پوسٹ مارٹم کے وقت میر رضا کا ہاتھ کھلا تھا۔
کمشین نے کہا کہ ہو سکتا ہے ایدھی رضاکاروں سے لاش منتقلی کے دوران ایسا ہوا ہو، پولیس سرجن نے کہا کہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔
ایک ہفتہ قبل میر رضا کے دوست محمد حیثم نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا جس میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے تھے۔
سندھ ہائیکورٹ میں میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی سماعت کے دوران حیثم نے بتایا کہ میں سافٹ ویئر ہاؤس میں آئی ٹی سیلز کا کام کرتا ہوں اور میر رضا کو 2014 سے جانتا ہوں۔
آخری ملاقات اور رابطے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ میر رضا سے آخری ملاقات 27 جولائی کو ہوئی تھی، جبکہ 28 جولائی کی رات ایک بجے ویڈیو کال پر بھی میر رضا سے بات ہوئی۔ حِیثم کے مطابق اس وقت میر رضا اپنے دوست رازق کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا اور اچھے موڈ میں تھا۔
حِیثم نے کمیشن کو بتایا کہ 28 جولائی کی رات تقریباً 4 بجے میر رضا کی منگیتر کی کال آئی، انہوں نے میر رضا کے بارے میں پوچھا، میں نے انہیں بتایا کہ رازق سے ان کی بات ہوئی ہے، اس لیے پریشان نہ ہوں، میر رضا نے رازق کو اس کے دفتر میں ڈراپ کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے میر رضا کی والدہ کو فون کرکے پوچھا کہ آیا رضا اپنے کمرے میں موجود ہے یا نہیں۔ کچھ دیر بعد والدہ نے بتایا کہ رضا کمرے میں نہیں تاہم اس کی گاڑی گھر پر موجود ہے۔
دوست کا کہنا تھا کہ انہوں نے رازق کو فون کرکے بتایا کہ رضا لاپتہ ہے اور اسے گھر پہنچنے کا کہا، وہ صبح ساڑھے 4 بجے اپنے دفتر سے نکلے اور طارق روڈ کے ہوٹلز میں میر رضا کو تلاش کرتے رہے، جس کے بعد وہ میر رضا کے گھر پہنچ گئے۔
احمد بھردے اور میر رضا کے تعلقات سے متعلق کمشین کے سوال پر حیثم نے بتایا کہ ان کے اور احمد بھردے کے اچھے تعلقات تھے، تاہم کمیشن کے اس سوال پر کہ کیا پیسوں کے معاملے پر دونوں کے درمیان ان بن تھی، حِیثم نے اس کی تردید کر دی۔



