سندھ کے دارالخلافہ کراچی میں میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کے بلانے پر وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار کمیشن میں پیش ہوگئے اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے رویے پر معذرت کرلی۔
تفصیلات کے مطابق میررضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کی چھٹی سماعت ہوئی۔ سربراہ کمیشن جسٹس عمر سیال نے وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار سے کہا مجھے خوشی ہوئی کہ آپ کمیشن کے بلانے پرآئے۔میر رضا کیس میں فیملی میں اعتماد کی کمی ہے میری اورآپ کی کوشش ہوگی کہ ان کا اعتماد بحال ہو۔بجائے اس کے کہ میں فیملی کے سوالات الگ الگ سنوں میں نے انہیں موقع دیا ہے کہ وہ اپنے وکیل کے توسط سے بات کر سکتے ہیں۔
سربراہ کمیشن نے کہا کہ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا رویہ بالکل ٹھیک نہیں تھا وہ اوران کےایڈیشنل نےفیملی کوسوالات کرنےسےروکا یہ بالکل درست عمل نہیں۔ہم نےآپ کواس لئے زحمت دی کہ آپ اس بات کی یقین دہانی کرادیں کہ آپ کوکوئی اعتراض نہیں،فیملی کو اختیار ہے کہ وہ سوال کرے۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا میں سندھ حکومت کی جانب سےاس معاملہ پرمعذرت خواہ ہوں۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ سندھ حکومت کےنمائندے ہیں۔ ہمارا یہاں آنےکا مقصد یہ ہے کہ ہم سندھ کےعوام کوامن وامان اورانصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔
ضیاء الحسن لنجار کا مزید کہنا تھا مجھے میر رضا کی فیملی سے ہمدردی ہے۔میں بھی والد ہوں پولیس اورحکومت کا کام ہےکہ اصل مجرم کوسامنےلایا جائے۔کمیشن جو کہےگا ہم اورسندھ حکومت آپ کےساتھ تعاون کے لئےتیارہیں۔
جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیئے کہ ایڈووکیٹ جنرل بہت قابل وکیل ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ ایڈووکیٹ جنرل برقراررہیں گے۔ کمیشن کی جانب سے اجازت کے بعد وزیر داخلہ سندھ عدالت سے روانہ ہوگئے۔
روانگی سے پہلے کورٹ روم کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے کہا کہ جو کمیشن فیصلہ کرے گا اسکے مطابق چلیں گے، کورٹ نے جے آئی ٹی کی استدعا مسترد کردی تھی۔
ضیاء لنجار کا مزید کہنا تھا کہ ایک غلط فہمی تھی جس پر میں نے غیر مشروط معافی مانگی ہے، کمیشن کے سربراہ کو یقینی دہانی کروائی ہے جس چیز کی بھی ضرورت ہو وہ فراہم کی جائے گی،ہم چاہتے ہیں کہ لواحقین کو انصاف ملے ۔
بعدازاں میررضا کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی سماعت 14ستمبرتک ملتوی کردی گئی، آئندہ سماعت پر ایس ایچ اوفیروزآباد، ہیڈ محررذیشان اورپولیس سرجن کو طلب کرلیا گیا۔
برطرف ایم ایل او ڈاکٹراسامہ شیخ نےکمیشن شوکازکا نوٹس جمع کرادیا،کمیشن سربراہ نےڈاکٹراسامہ شیخ کو15ستمبرکوصبح 11بجےطلب کرلیا۔میڈیکل بورڈ کےڈاکٹرنسیم نے زوم پرکمیشن میں پیشی کی یقین دہانی کرادی۔
معاملہ کیا ہے؟
کراچی کی نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی 28 جولائی 2026 کی رات کام سے گھر واپس آنے کے بعد لاپتا ہوگئے تھے۔ اگلے روز 29 جولائی کو ان کی لاش گلستان جوہر سے ملی۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات اٹھنے کے بعد کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید طارق نے رپورٹ میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی، جن میں گولی کے داخل ہونے اور نکلنے کی سمت، زخموں کی تفصیلات، ایکسرے اور فائرنگ سے متعلق بعض فرانزک طریقہ کار کا نہ ہونا شامل تھا۔
اہل خانہ کے مطالبے پر عدالت نے مقتول کی قبر کشائی اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی اجازت دی۔ 8 اگست کو لاش کی قبر کشائی کی گئی، جس کے بعد 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا اور مختلف نمونے حاصل کیے۔
دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی اور نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔پولیس کے مطابق میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میڈیکل رپورٹس، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر دستیاب مواد کی بنیاد پر جاری ہیں، جبکہ حتمی طبی نتائج کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جائے گا۔


