کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا قتل کیس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دینے سے متعلق والدین کی درخواست کو مسترد کر دیا۔
سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا قتل کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دینے کی والدین کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے جس حکم کی نظیر پیش کی، اس کی نوعیت مختلف تھی۔
تحریری حکم نامے کے مطابق درخواست گزار کے خلاف پراسیکیوشن نے سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کارروائی کی تھی جبکہ اہلخانہ پولیس کی جانب سے جاری تفتیش سے ناخوش تھے۔ درخواست گزار نے دلائل دیتے ہوئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی استدعا کی تھی۔
عدالت نے وکلا سے سوال کیا کہ کیا ہائیکورٹ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے اس نوعیت کا حکم جاری کرسکتی ہے اور کیا عدالت جاری تفتیش کی نگرانی بھی کرسکتی ہے؟ عدالت فریقوں کو جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے حکم جاری بھی کرسکتی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے جوابی دلائل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالت کے پاس اس نوعیت کا حکم جاری کرنے کا اختیار موجود نہیں۔
تفتیشی افسر کو ہدایت کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ میر رضا قتل کیس کی تحقیقات غیرجانبدارانہ، منصفانہ اور تیزی سے مکمل کی جائیں۔ تفتیشی افسر قانون کے مطابق تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گا اور ضرورت پڑنے پر دیگر اداروں سے بھی معاونت حاصل کی جائے گی۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی یقین دہانی بھی کرائی۔
واضح رہے کہ کراچی کے نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی 28 جولائی کی رات کام سے گھر واپس آنے کے بعد لاپتا ہوگئے تھے۔ اگلے روز 29 جولائی کو ان کی لاش گلستان جوہر سے ملی۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات اٹھنے کے بعد کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید طارق نے رپورٹ میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی، جن میں گولی کے داخل ہونے اور نکلنے کی سمت، زخموں کی تفصیلات، ایکسرے اور فائرنگ سے متعلق بعض فرانزک طریقہ کار کا نہ ہونا شامل تھا۔
اہل خانہ کے مطالبے پر عدالت نے مقتول کی قبر کشائی اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی اجازت دی۔ 8 اگست کو لاش کی قبر کشائی کی گئی، جس کے بعد 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا اور مختلف نمونے حاصل کیے۔
دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی اور نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔
پولیس کے مطابق میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میڈیکل رپورٹس، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر دستیاب مواد کی بنیاد پر جاری ہیں، جبکہ حتمی طبی نتائج کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جائے گا۔


