برمنگھم ٹیسٹ میں پاکستان کے نوجوان بلے باز رضا اللہ نے ڈیبیو پر جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 43 گیندوں پر نصف سنچری بنائی۔
جس کے ساتھ ہی وہ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں تیز ترین نصف سنچری بنانے والے کھلاڑی بن گئے۔
رضا اللہ نے اپنی اننگز کے دوران پراعتماد انداز میں اسٹروکس کھیلے اور ڈیبیو ٹیسٹ میں ہی قومی ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔ اس سے قبل پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں تیز ترین نصف سنچری کا ریکارڈ فہیم اشرف کے پاس تھا، جنہوں نے 2018 میں آئرلینڈ کے خلاف 50 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی تھی۔
برمنگھم ٹیسٹ میں رضا اللہ نے نو چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 81 رنز بنائے۔ یاد رہے انہوں نے چار وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔
50 for Razaullah in style, hitting Archer for B2B sixes 🔥 pic.twitter.com/30XxdsTZPx
— PctMedia (@PctMediaa) September 11, 2026
بابر اعظم بھی اہم اعزاز اپنے نام کرچکے
دوسری جانب اسی ٹیسٹ سیریز میں بابر اعظم نے بھی بطور کپتان اہم اعزاز حاصل کیا۔ بابر اعظم انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں 7 ہزار رنز مکمل کرنے والے پاکستان کے دوسرے کپتان بن گئے۔
اس سے قبل یہ اعزاز سابق کپتان مصباح الحق کے پاس تھا، جنہوں نے بطور کپتان 7 ہزار رنز بنائے تھے۔ بابر اعظم نے یہ سنگ میل انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران عبور کیا۔
برمنگھم ٹیسٹ پاکستان کے لیے اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ ایک جانب نوجوان رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین نصف سنچری کا قومی ریکارڈ اپنے نام کیا، جبکہ دوسری جانب بابر اعظم نے بھی کپتان کی حیثیت سے 7 ہزار رنز مکمل کرکے قومی کرکٹ میں اپنی جگہ مزید مستحکم کی۔



