سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلیفون پر رابطہ کرکے حوثیوں کے خلاف حملے کرنے پر زور دیا تاہم ٹرمپ نے انکی یہ درخواست مسترد کردی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور ان پر زور دیا کہ یمن کے حوثیوں کے خلاف امریکی حملے کیے جائیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد نے امریکی صدر سے گفتگو کے دوران حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ درخواست مسترد کردی۔
امریکی حکام نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں امریکی انتظامیہ کا حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
خبر کے مطابق امریکی حکام نے یہ بھی بتایا کہ امریکا یمن میں تیزی سے بڑھتے ہوئے تنازع پر تشویش میں مبتلا ہے اور سعودی عرب کی حمایت میں اضافہ کر رہا ہے تاہم واشنگٹن براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کرنا چاہتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بھی جمعرات کو سعودی عرب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فوری نوعیت کے رابطے اور مشاورت کے لیے سعودی حکام سے ملاقاتیں کیں۔
’ ایکسیوس ‘ کے مطابق امریکی فوجی اور سول حکام گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اپنے سعودی ہم منصبوں کو بتا چکے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت ہے کہ امریکی افواج کی توجہ ایران پر مرکوز رکھی جائے اور آبنائے ہرمز کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کسی نئے فوجی محاذ کے آغاز سے بھی گریز کرنا چاہتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یمن میں جاری صورتحال کے باعث سعودی عرب اور امریکا کے درمیان رابطے بڑھ گئے ہیں جبکہ سعودی عرب حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو درپیش خطرات کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رائٹرز نے جولائی 2026 کے دوران رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں سے بحری جہازوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یمن اور اس کے اردگرد کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سعودی عرب بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے دیگر ممالک کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کر رہا ہے۔
واضح رہے یمن میں موجودہ کشیدگی میں اضافہ جولائی کے آغاز میں ہوا تھا۔ اس وقت حوثیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی فورسز نے سعودی ’جنگی طیاروں‘ کا سامنا کیا، جو ایرانی شہری طیارے کو صنعاء انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔



