وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب میں ‘شہری اور توانائی کی تنصیبات’ کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے ‘بزدلانہ حملے’ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی بن صالح المالکی نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے اتحاد کی جانب سے ‘سخت جوابی کارروائی’ کا عندیہ بھی دیا۔
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) September 8, 2026
ایکس پر جاری ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
انہوں نے ایسے بزدلانہ حملوں کو معصوم انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ قراردیتے ہوئے کہا کہ “ہم سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔”
I condemn in the strongest terms, the cowardly attack by Houthis targeting civilian and energy facilities in the Kingdom of Saudi Arabia, which have left many people injured.
Pakistan stands in unwavering solidarity with the Custodian of the Two Holy Mosques, His Majesty King…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) September 8, 2026
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب حوثیوں نے سعودی عرب پر یمن کے مختلف علاقوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔
حوثیوں کے خبر رساں ادارے صبا نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے صوبہ الجوف، البیضا، مأرب اور تعز میں مختلف مقامات کو فضائی حملوں اور کروز میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
اس کے علاوہ شمالی شہر الحزم میں ایک جیل پر فضائی حملے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ حوثیوں کے مطابق حملے میں ایک بچے سمیت 7 افراد ہلاک اور خاتون سمیت کم از کم 7 زخمی ہوئے۔
الجزیرہ کے مطابق حوثیوں کے زیر انتظام وزارت صحت کے ترجمان انیس الاصبحی نے کہا کہ حملہ الجوف صوبے میں قائم سینٹرل کریکٹیو فیسلٹی پر کیا گیا۔ حوثی ٹی وی چینل المسیرہ نے مبینہ حملے کے بعد کی فوٹیج بھی نشر کی، جس میں ایک عمارت منہدم اور لوگوں کو ملبے میں تلاش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
سعودی عرب نے جیل پر فضائی حملے کے حوثی الزام پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
حوثی حملوں پر میجر جنرل المالکی نے مزید کہا کہ اتحادی افواج کی مشترکہ کمان اس ’دہشت گرد ملیشیا‘ کو روکنے اور اس کے جارحانہ عزائم کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری فوجی اقدامات کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات سعودی عرب کی خودمختاری کے دفاع، قومی اثاثوں کے تحفظ اور شہریوں و مقیم افراد کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر یمن میں ’قتل عام‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سعودی طیارے جاسوسی پروازیں کر رہے ہیں اور کرائے کے جنگجوؤں کو ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کے 4 جاسوس ڈرون مار گرائے، جن میں ایک سی ایچ-4 ڈرون بھی شامل ہے۔
یمن میں حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے۔ حوثی خود کو انصار اللہ کہتے ہیں، ایران کے اتحادی ہیں اور یمن کی حکومتی افواج کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، جنہیں سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔ ان کا شمالی یمن، بحیرۂ احمر کا ساحلی علاقہ اور دارالحکومت صنعاء پر کنٹرول ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر لڑائی روکیں اور زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ کشیدگی ایک مکمل جنگ کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔
