امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سعودی عرب پر حوثی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے واضح طور پر ایران کا ہاتھ نظر آتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے روبیو کا کہنا تھا کہ حوثی کئی حوالوں سے ایرانیوں کے ایجنٹ اور پراکسی ہیں، اس لیے سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حملوں میں ایرانی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط دفاعی اور عسکری تعلقات ہیں اور واشنگٹن سعودی عرب میں ہونے والے واقعات پر انتہائی قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یہ صورتحال کچھ عرصے سے جاری ہے، جبکہ یمن میں زمینی کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
Marco Rubio on Houthi attacks on Saudi Arabia:
The Houthis, in many ways, are agents and proxies of the Iranians. I think behind some of this is clearly the Iranian hand.
The U.S. has a very strong defensive military relationship with Saudi Arabia, and we’re watching those… pic.twitter.com/1MUJF4lAZ4
— Clash Report (@clashreport) September 8, 2026
ان کے مطابق یمنی فورسز حوثیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں اور حوثیوں کی جانب سے زمینی پیش قدمی کی بعض کوششوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا تمام صورتحال کی بہت قریب سے نگرانی کر رہا ہے۔
حملوں میں کتنے افراد نشانہ بنے؟
سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی بن صالح المالکی نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے اتحاد کی جانب سے ‘سخت جوابی کارروائی’ کا عندیہ بھی دیا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب حوثیوں نے سعودی عرب پر یمن کے مختلف علاقوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔
حوثیوں کے خبر رساں ادارے صبا نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے صوبہ الجوف، البیضا، مأرب اور تعز میں مختلف مقامات کو فضائی حملوں اور کروز میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
اس کے علاوہ شمالی شہر الحزم میں ایک جیل پر فضائی حملے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ حوثیوں کے مطابق حملے میں ایک بچے سمیت 7 افراد ہلاک اور خاتون سمیت کم از کم 7 زخمی ہوئے۔
پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت
پاکستان نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حوثی ملیشیا نے ابہا، خمیس مشیط اور نجران میں شہری اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنایا، جو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ کہ سعودی عرب پر حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور یہ حملے یمن کے تنازع کے پرامن اور پائیدار حل کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی قیادت، حکومت اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
ترجمان نے حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے جائز حق کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
اس سے قبل ایکس پر جاری ایک بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خادم حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
انہوں نے ایسے بزدلانہ حملوں کو معصوم انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ قراردیتے ہوئے کہا کہ “ہم سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔”
I condemn in the strongest terms, the cowardly attack by Houthis targeting civilian and energy facilities in the Kingdom of Saudi Arabia, which have left many people injured.
Pakistan stands in unwavering solidarity with the Custodian of the Two Holy Mosques, His Majesty King…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) September 8, 2026


