بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس کا احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لیے جنتر منتر میں جمع ہونے والے ‘جین زی’ مظاہرین پر کریک ڈاؤن، درجنوں طلبہ اور سیاسی رہنما گرفتار کر لیے گئے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ‘جین زی’ کی قیادت میں کاکروچ جنتا پارٹی اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے کارکنان بھارتی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر جنتر منتر میں احتجاج کر رہے ہیں جس کی وجہ سے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو ایک بار پھر سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔
The authorities are detaining any protestor gathering at Jantar Mantar, Delhi, as crowds gather to protest against CEC Gyanesh Kumar. This comes after the Delhi Police announced that Section 163 is in force in Jantar Mantar prohibiting large gatherings and protests. #protest… pic.twitter.com/Hw8D2FoI8D
— The Quint (@TheQuint) October 2, 2026
کاکروچ جنتا پارٹی فی الحال صرف ممبئی کے شیواجی پارک میں احتجاج کر رہی ہے اور مظاہروں کو آئندہ دنوں میں ملک کے دیگر حصوں تک پھیلانے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے کارکنان جنتر منتر پر جمع ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں انتظامیہ نے سخت سکیورٹی انتظامات کر رکھے ہیں۔
احتجاج میں شرکت کے لیے جنتر منتر پہنچنے والے عام آدمی پارٹی کے دہلی کے صدر سوربھ بھاردواج اور پارٹی کارکنوں سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔
احتجاج کی بنیادی وجہ الیکشن کمیشن پر ووٹر فہرستوں میں مبینہ ردوبدل کا الزام ہے، جس کے بارے میں مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ اس سے مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچایا گیا۔
الیکشن کمیشن اور بھارتی حکومت ان الزامات کی تردید کرچکے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی پولیس نے 2 اکتوبر کے احتجاج کی اجازت نہیں دی اور نئی دہلی میں بھارتیہ نیا سنہتا کی دفعہ 163 (سابقہ قانون کے مطابق دفعہ 144) نافذ ہے۔
جنتر منتر کی جانب جانے والے راستوں پر کئی سطحوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ ٹالسٹائی مارگ اور کیرالا بھون کی جانب سے احتجاجی مقام تک رسائی بند کردی گئی، جبکہ اشوکا روڈ کے قریب بھی مزید رکاوٹیں لگائی گئی ہیں۔
سکیورٹی انتظامات کے لیے دہلی پولیس، ریزرو فورسز، ریپڈ ایکشن فورس اور دیگر نیم فوجی دستوں سمیت تقریباً 5 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ داخلی راستوں پر پولیس کی گاڑیاں موجود ہیں، سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی کی جارہی ہے جبکہ انسدادِ ہنگامہ آرائی کا سامان اور ڈرون بھی استعمال کیے جارہے ہیں۔
The people are united. Detained protestors are repeatedly being released by the people on the streets!
Jantar Mantar 2.0 is on!
Gyanesh will soon be gone! pic.twitter.com/wJP9vGFC8b— Neha (@neha_aisa) October 2, 2026
دہلی میٹرو کے 11 اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے گئے ہیں، جبکہ جنتر منتر، پارلیمنٹ اسٹریٹ، ٹالسٹائی مارگ، کناٹ پلیس اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک پابندیاں اور متبادل راستوں کا انتظام کیا گیا ہے۔
اس سے قبل 25 ستمبر کو اسی نوعیت کے احتجاج کے دوران جنتر منتر کے قریب 60 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں نیہا بورا، پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو بھی شامل تھے۔ پولیس کے مطابق اجتماع کے لیے اجازت نہیں لی گئی تھی۔
کاکروچ جنتا پارٹی ایک ‘جین زی’ تحریک ہے جو رواں سال بے روزگاری اور امتحانی پرچوں کے افشا پر سوشل میڈیا پر پائی جانے والی بے چینی کے نتیجے میں سامنے آئی۔
ابھیجیت دپکے کی قیادت میں اس جماعت کو امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف بڑے احتجاج منظم کرنے کے بعد قومی سطح پر توجہ حاصل ہوئی تھی۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں بھارت کے وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا، جسے حالیہ برسوں میں مودی حکومت کے اہم سیاسی دھچکوں میں شمار کیا گیا۔
