نصیر آباد (محبوب کھوسو): بلوچستان کے شہر ڈیرہ مراد جمالی کے سٹی تھانے میں قید ایک نوجوان پولیس اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے دم توڑ گیا۔
پولیس کے مطابق نوجوان کی شناخت مختیار احمد سے ہوئی جس کے قتل کی ایف آئی آر بھی درج کر دی گئی ہے۔
سب انسپکڑ کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ صبح 6 بجے کے قریب 4 پولیس اہلکار ڈیوٹی سے واپس آئے اور محرر جاوید اقبال کے پاس اسلحہ جمع کرایا۔ اسلحہ چیک کر کے جمع کرنے کے دوران فائرنگ کی آواز ہوئی تو حوالات میں بند قیدیوں نے شور مچایا کہ قیدی کو گولی لگی ہے۔
پولیس کے مطابق انہوں نے چیک کیا تو حوالات میں جسمانی ریمانڈ پر قید مختیار احمد ولد عبد الرحیم قوم بزدار ساکن ڈالڈائل کو گولی لگی تھی جس سے وہ موقع پر دم توڑ گیا۔
پولیس کے مطابق مختیار احمد لڑائی جھگڑے کے مقدمے میں سٹی تھانے میں زیر حراست تھا جس پر “اسلحہ کی چیکنگ کے دوران فائر کر کے” شب محرر کی ڈیوڑی پر مامور ہیڈ کانسٹیبل جاوید اقبال نے “جرم زیر دفعہ 302 ت پ کا ارتکاب کیا ہے۔”
واقعے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے سٹی تھانے کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا اور واقعے سے متعلق حقائق معلوم کیے۔
دوسری جانب جاں بحق نوجوان کے ورثا نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مختیار احمد کو غلطی سے گولی نہیں لگی بلکہ اسے تھانے میں جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہے۔
ورثا کی جانب سے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے جس پر پولیس کی جانب سے تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔



