وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق جاری بحث کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام یا انتظامی یونٹس بنانے کا فیصلہ پارلیمنٹ کے فورم پر ہونا چاہیے۔
ہم نیوزکے پروگرام ” فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جب تک چاروں صوبوں سے عوامی رائے سامنے نہیں آتی، اس معاملے کو آگے بڑھانا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز لاہور میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق مکالمہ ہوا، تاہم اس میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ سے کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا جس شخص نے انتظامی یونٹس کا منصوبہ پیش کیا، اس کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس سے متعلق بحث اکنامک فورم کے ذریعے ہوئی، جس میں کوئی سیاسی جماعت شامل نہیں تھی۔
کاروباری حضرات کا احترام کرتے ہیں، لیکن نئے صوبوں کا قیام ان کا کام نہیں، اس حوالے سے فیصلہ سیاسی اور آئینی فورم پر ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کی بحث کے لیے پارلیمنٹ ہی مناسب فورم ہے اور نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بننے چاہئیں یا نہیں، اس کا فیصلہ بھی پارلیمنٹ نے کرنا ہے جب یہ معاملہ پارلیمنٹ میں زیرِ بحث آئے گا تو وہ اپنی رائے دیں گے۔
سندھ اسمبلی میں صوبوں کی تقسیم سے متعلق ہونے والی بحث پررانا ثناء اللہ نے کہا کہ وہاں چار روز تک تقاریر ہوئیں اوربعد میں یہ کہا گیا کہ خبردار اگر کسی نے آئندہ اس معاملے پر بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے بھی خبردار کیا کہ اگر اس معاملے پر بحث کی گئی تو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے معاملے پر انتہائی سخت زبان استعمال کی گئی اور مرنے مارنے تک کی باتیں کی گئیں۔
رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی کو مشورہ دیا کہ وہ اس معاملے کو زیادہ سنجیدگی یا کشیدگی کی طرف نہ لے جائے اور چیزوں کو ہلکا لے۔
آئینی ترمیم کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس وقت اس حوالے سے کوئی کوشش نہیں کی جا رہی اگر پارلیمنٹ ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کرتی ہے تو عوام سے رائے لی جائے گی، تاہم اس معاملے میں چاروں صوبوں کی رائے کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
پی ٹی آئی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف مسلح احتجاج کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے جو سیاسی نہیں بلکہ انتہا پسند ہیں، تحریک انصاف کو ہر قیمت پر روکا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، تاہم ملک میں امن و امان خراب کرنے یا تشدد کی راہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ان کے مطابق حکومت کسی بھی ایسے اقدام کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی جو امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتا ہو۔



