وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسلام آباد پولیس کو جدید پولیسنگ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم آفس سے جاری ایک بیان کے مطابق وہ اسلام آباد پولیس کو 50 الیکٹرک گاڑیوں کی حوالگی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کی پولیس کو ملک کے دیگر شہروں کے لیے رول ماڈل ہونا چاہیے۔ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے پولیس کو جدید ٹیکنالوجی، سازوسامان اور دیگر ضروری وسائل سے لیس کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے الیکٹرک گاڑیوں کی چابیاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی کے حوالے کیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیر مملکت طلال چوہدری سمیت متعلقہ حکام بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ نئی الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی کا مقصد پولیسنگ کے نظام میں ماحول دوست اور گرین پولیسنگ کو فروغ دینا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پولیس کی کارکردگی اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات میں مزید بہتری آئے گی۔
اس موقع پر انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس نے وزیراعظم کو وفاقی دارالحکومت کی سکیورٹی کے لیے قائم کی گئی نئی فورس ’’کیپٹل پٹرول‘‘کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ یہ فورس ’’محفوظ، سمارٹ اور گرین کیپیٹل‘‘ کے وژن کے تحت تشکیل دی گئی ہے اور اس میں مجموعی طور پر 200 پولیس اہلکار شامل ہوں گے۔
بریفنگ کے مطابق کیپٹل پٹرول کے ہر یونٹ میں ایک مرد اور ایک خاتون پولیس اہلکار تعینات ہوں گے، جبکہ موٹر سائیکل سوار اہلکار بھی فورس کا حصہ ہوں گے تاکہ مختلف علاقوں میں فوری رسپانس اور مؤثر گشت یقینی بنایا جا سکے۔
تمام اہلکاروں کو باڈی کیمروں سے لیس کیا جائے گا، جس سے پولیسنگ میں شفافیت، نگرانی اور جوابدہی کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ کیپٹل پٹرول فورس کے لیے فراہم کی گئی 50 الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے ایندھن کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ اندازے کے مطابق ایندھن کی مد میں ماہانہ تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ روپے کی بچت ہوگی، جبکہ ایک گاڑی کی لاگت تقریباً ساڑھے 10 ماہ میں ایندھن کی بچت سے پوری ہو جائے گی۔
وزیراعظم نے اسلام آباد پولیس کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، گرین پولیسنگ کے فروغ اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ جدید پولیسنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔



