کراچی: سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے شدید گرمی کے پیش نظر صوبے کے اسکولوں کے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کمی کرنے کا اعلان کر دیا۔
وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا، سیلاب اور دیگر مخصوص حالات کے باعث ہمیں اسکولوں کے اوقات کار میں ایک گھنٹے کا اضافہ کر کے ہفتے کی چھٹی کرنی پڑی تھی لیکن اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اب اسکولوں میں ایک گھنٹے کا اضافہ ختم کیا جا رہا ہے۔ صوبے میں اسکولوں سے باہر بچوں کی بڑی تعداد ایک اہم چیلنج ہے اور حکومت اب تک یکساں تعلیمی پالیسی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
سید سردار علی شاہ نے کہا کہ سیلاب کے باعث 20 ہزار اسکولوں کی چار دیواریاں متاثر ہوئیں جبکہ پاکستان تعلیم پر دنیا کے کم ترین اخراجات کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پی ایس ڈی پی کے ذریعے تعلیمی مراکز کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں۔ لاکھوں بچوں کو کمیونٹی بیسڈ مراکز کے ذریعے تعلیم دی جارہی ہے، تاہم مہنگائی کے باعث ان مراکز کے اخراجات میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب پنجاب میں پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کا فیصلہ کرلیا گیا، جس کے تحت رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر امتحانات کی تقرری کا طریقہ کار تبدیل کرنے کی تجویز سامنے آگئی۔
پبلک سیکٹر یونیورسٹیز (دوسری ترمیم) ایکٹ 2026 پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ہائر ایجوکیشن کو موصول ہو گیا۔ مجوزہ قانون کے تحت رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر امتحانات کی تقرری حکومت کرے گی، جبکہ اس سے قبل ان تینوں عہدوں پر تقرری کی ذمہ داری یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے پاس تھی۔
مجوزہ ترامیم کے مطابق تینوں اہم انتظامی عہدوں پر تقرریاں سرچ کمیٹی کی سفارشات پر حکومت کرے گی، جبکہ سرچ کمیٹی تشکیل دینے کا طریقہ بھی قانون میں شامل کیا گیا ہے۔
بل کے متن کے مطابق رجسٹرار، خزانچی یا کنٹرولر امتحانات کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں عارضی تعیناتی کی جا سکے گی، تاہم عارضی طور پر تعینات افسر کی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو گی۔
مجوزہ قانون میں رجسٹرار کو یونیورسٹی کے اکیڈمک ریکارڈ اور کامن سیل کا نگران قرار دیا گیا ہے، جبکہ وہ گریجویٹس کا رجسٹر برقرار رکھنے کا بھی ذمہ دار ہوگا۔
خزانچی کو یونیورسٹی کا چیف فنانشل آفیسر قرار دینے کی تجویز ہے۔ خزانچی سالانہ اور نظرثانی شدہ بجٹ تیار کرکے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے سامنے پیش کرے گا۔ اسی طرح کنٹرولر امتحانات طلبہ کے ریکارڈ، امتحانات کی جانچ اور انعقاد سے متعلق معاملات کا ذمہ دار ہوگا۔
قائمہ کمیٹی کو بل پر دو ماہ میں رپورٹ پیش کرنا ہوگی، جس کے بعد بل ایوان سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ بل کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔


