جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے حامی تھے، ہیں اور رہیں گے، ملک کو انارکی سے نکالنے کے لیے سیاسی مکالمے کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی کی رہائش گاہ پر آمد کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نئے صوبوں سمیت ہر موضوع پر ملکی سطح پر سیاسی مکالمہ ہونا چاہیے۔ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان توازن کے ساتھ اختیارات تقسیم کیے جائیں تو ملک کے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مقتدر لوگ حکمرانی کی ذہنیت کے ساتھ اپنی معروضی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑے فیصلے کرلیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتدرہ ہمیشہ نئے صوبوں کی مخالف رہی ہے لیکن آج خود نئے صوبوں کا شوشہ چھوڑا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کے معاملے پر ان کا اور نواز شریف کا ذہن ایک جیسا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ وہ بات کر رہے ہیں جبکہ نواز شریف خاموش ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں الحمدللہ سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہے، تاہم دو صوبوں میں امن و امان کی صورتحال تباہ ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے صوبوں سے دہشت گردی کے حوالے سے دیے گئے بیان کو انہوں نے ناقابل فہم قرار دیا۔
سسٹم ہو تو خطرہ ہو
ملک کے موجودہ نظام کو درپیش خطرات سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے برجستہ جواب دیا کہ ’’سسٹم ہو تو خطرہ ہو‘‘۔
انہوں نے موجودہ صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نظام کولیپس کرچکا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ انہوں نے دو مرتبہ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تاکہ ارکان کو ملک کی اصل صورت حال سے آگاہ کیا جاسکے، تاہم ان کا مطالبہ نہیں مانا گیا۔
سرمایہ کاری اور تجارت پر بھی تشویش
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ پاکستان میں نہ پاکستانی سرمایہ کار سرمایہ کاری کررہے ہیں اور نہ ہی بیرون ملک سے سرمایہ کاری آرہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی تجارت کا بڑا دارومدار وسطی ایشیا پر تھا، جہاں سبزیاں اور پھل بھی برآمد کیے جاتے تھے لیکن اب یہ تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ دھاندلی سے بنی ہے اور این ایف سی ایوارڈ بھی حکمرانوں کو ہضم نہیں ہورہا، ان کے بقول معدنی ذخائر صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور یہی معاملہ بعض حلقوں کے لیے قابل قبول نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ امریکی عہدیداروں نے ان سے ملاقات کے دوران پاکستان کے معدنی ذخائر میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جواب دیا کہ معدنی وسائل سے متعلق معاملات کو عوام کے سامنے لاکر طے کیا جانا چاہیے اور اس میں وفاق، صوبوں اور عوام کا حصہ واضح ہونا چاہیے۔
پی ٹی آئی کے ساتھ پارلیمانی تعاون کا ذکر
مولانا فضل الرحمان نے 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے 35 شقوں سے دستبردار ہونے پر حکومت کو آمادہ کیا، جو ان کے بقول پی ٹی آئی کے ساتھ اشتراک اور مشاورت کا نتیجہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے معاملات میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ پارلیمنٹ کے اندر الائنس بھی تشکیل دیا گیا تھا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نے حالات کو مزید خراب کیا ہے۔ انہوں نے سیاسی کارکنوں پر زور دیا کہ گالی کے بجائے دلیل سے بات کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کے بجائے سیاسی اور قومی معاملات پر دلائل کے ساتھ گفتگو ہونی چاہیے، انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مختلف علاقوں میں معروف سیاسی قیادت کو پس منظر میں کیوں دھکیلا جاتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے سے بات کرنا ہوگی اور نئے صوبوں، اختیارات کی تقسیم اور قومی وسائل سمیت تمام اہم معاملات پر وسیع تر سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔



