روس نے جرمنی کی جانب سے روسی قونصل خانے اور ثقافتی مرکز بند کرنے کے فیصلے کے جواب میں سینٹ پیٹرزبرگ میں جرمن قونصل جنرل بند کرنے کا اعلان کردیا۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ میں جرمن قونصل خانہ 18 ستمبر تک اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر بند کردے گا، جبکہ روس میں جرمنی کے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے ثقافتی مراکز بھی اپنی سرگرمیاں ختم کریں گے۔
وزارت خارجہ نے بتایا کہ گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے عملے کو بھی 13 ستمبر تک روس چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
روس کا یہ اقدام جرمنی کی جانب سے بون میں روسی قونصل خانے اور برلن میں روسی ثقافتی مرکز بند کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔
⚡️ In response to Germany’s unfriendly actions, Russia is taking retaliatory measures:
– Germany’s Consulate General in St Petersburg must close by September 18, 2026;
– Goethe-Institut cultural centres in Russia must cease operations.https://t.co/TOkO8lbsGP pic.twitter.com/mQyVK1CMR0
— MFA Russia 🇷🇺 (@mfa_russia) September 7, 2026
جرمنی نے یہ اقدامات روس پر لیپزگ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کا الزام عائد کرنے کے بعد کیے تھے۔ ماسکو نے جرمن الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’من گھڑت کہانی‘ قرار دیا تھا۔
4 اگست کو مشرقی جرمنی کے لیپزگ ایئرپورٹ پر ایک ڈرون ملا تھا، جس میں دھماکا خیز مواد نصب تھا اور جو یوکرین کے قریب موجود کارگو طیاروں کی جانب پرواز کر رہا تھا۔ تاہم ڈیٹونیٹر میں مبینہ خرابی کے باعث دھماکا نہیں ہوسکا۔
تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ ایک دوسرے ڈرون کی قریبی کارگو طیارے سے ٹکر ہوئی، جبکہ 10 روز بعد ایئرپورٹ کے قریب ایک تیسرے ڈرون کی موجودگی کی بھی اطلاع ملی تھی۔
German authorities are investigating how a drone packed with explosives reached Leipzig/Halle Airport.
The airport serves as a base for Ukraine’s Antonov Airlines which relocated after the Russian invasion in 2022. pic.twitter.com/1GXqz7rqgp
— Al Jazeera English (@AJEnglish) August 6, 2026
روسی وزارت خارجہ نے بیان میں جرمنی کو موجودہ کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جرمن حکام نے ایک مرتبہ پھر دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی کا نیا دور شروع کیا ہے اور اس کے نتائج کی ’مکمل ذمہ داری‘ جرمن حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
دوسری جانب جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ نے لیپزگ ایئرپورٹ کے واقعے کو یورپ میں روسی ’ہائبرڈ کارروائیوں‘ کے طویل عرصے سے جاری طریقہ کار کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ جرمنی کو دوبارہ بھی نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہے۔
Russia deliberately targets civilian infrastructure, including electricity and heating supplies. That is why we are already looking ahead to winter and working to support Ukraine in its winter preparedness. 2/3
— GermanForeignOffice (@GermanyDiplo) August 22, 2026
ادھر جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ ریاست سیکسنی انہالٹ میں روس نواز جماعت اے ایف ڈی کی انتخابی کامیابی سے یوکرین کے لیے وفاقی حکومت کی حمایت متاثر نہیں ہوگی۔ انہوں نے جرمنی کی داخلی سلامتی کو درپیش ’انتہائی ٹھوس خطرے‘ سے بھی خبردار کیا۔
مرز نے کہا کہ مشرقی جرمنی میں ہونے والے انتخابی نتائج سے روس کو خوشی ہوئی ہوگی۔
