میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن نے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کو 10 ستمبر کو طلب کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن کی پانچویں سماعت ہوئی جس میں کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید طارق نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
ڈاکٹر سمیعہ نے کمیشن کو میر رضا علی کے پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور نوجوان کاروباری شخصیت کا پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکو لیگل آفیسر (ایم ایل او) ڈاکٹر اسامہ سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔
کمیشن کو تحقیقات سے متعلق مزید دستاویزات بھی پیش کی گئیں، جن میں میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ، موبائل فون اور اسمارٹ واچ کی فرانزک رپورٹس جبکہ گواہوں کے مزید بیانات کی نقول شامل تھیں۔
سماعت کے دوران کمیشن اور سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کے درمیان اس وقت اختلاف پیدا ہوگیا جب مقتول کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر کی جانب سے پولیس سرجن سے کیے گئے سوالات پر صوبائی قانون افسر نے اعتراض کیا۔
کمیشن نے ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے مداخلت کو کارروائی میں مداخلت قرار دیا، جبکہ قانونی افسر کا مؤقف تھا کہ وہ کارروائی میں معاونت کررہے ہیں۔
جسٹس عمر سیال نے ایڈووکیٹ جنرل سے سوال کیا کہ انہیں اہلخانہ کے وکیل کی جانب سے سوالات پر اعتراض کیوں ہے۔
پولیس سرجن نے پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار کی تفصیلات بتادیں
ڈاکٹر سمیعہ سید طارق نے کمیشن کو بتایا کہ وہ 10 جون 2022 سے کراچی کی پولیس سرجن ہیں اور 1999 سے پوسٹ مارٹم کررہی ہیں۔
ان کے مطابق وہ اب تک کراچی اور ٹھٹھہ میں 99 میتوں کی قبر کشائی اورتقریباً ایک ہزار پوسٹ مارٹم کرچکی ہیں ۔
ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ میتیں لواحقین، پولیس یا ایمبولینس کے ذریعے اسپتال لائی جاتی ہیں اور ہر کیس میں میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر میت اسپتال پہنچنے کے وقت پولیس موجود نہ ہو تو پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے۔
پولیس سرجن کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران میت کی تصاویر لینا طریقہ کار کا حصہ ہے، جبکہ معائنے سے قبل جسم کی حالت اور گلنے سڑنے کی کیفیت بھی ریکارڈ کی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر سر سے پاؤں تک جسم کا معائنہ کرتے ہیں اور مشاہدات کی تصدیق کے لیے تصاویر بنائی جاتی ہیں۔
ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران یہ بھی تعین کیا جاتا ہے کہ زخم موت سے پہلے آئے یا موت کے بعد، جبکہ ممکنہ جنسی زیادتی اور فریکچر کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق پوسٹ مارٹم کا مقصد موت اور معائنے کے درمیان ممکنہ وقت کا تعین کرنا بھی ہوتا ہے، جبکہ کیمیکل ایگزامینیشن کے بعد حتمی رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نامعلوم میتوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونے حاصل کیے جاسکتے ہیں، جبکہ فنگر پرنٹس، چہرے کی شناخت اور بائیومیٹرک تصدیق بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔
ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ میڈیکو لیگل عمل سندھ میڈیکو لیگل ایکٹ 2023 کے تحت ہوتا ہے جبکہ پوسٹ مارٹم متعلقہ قانونی طریقہ کار کی دفعہ 174 کے تحت کیے جاتے ہیں۔
میر رضا کے پوسٹ مارٹم پر سوالات
سماعت کے دوران ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ انہوں نے میر رضا علی کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ سے متعدد مرتبہ معلومات طلب کی تھیں۔
ان کے مطابق 29 جولائی کو شام 5 بج کر 46 منٹ پر ڈاکٹر اسامہ سے اس وقت بات ہوئی جب انہیں اطلاع ملی کہ گلستان جوہر سے مبینہ طور پر 2 روز پرانی میت لائی گئی ہے۔
ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ انہوں نے متوفی کی شناخت، طبی تاریخ اور گولی لگنے کے زخموں سے متعلق سوالات کیے، جس پر ڈاکٹر اسامہ نے پوسٹ مارٹم رجسٹر کی تصاویر مختلف حصوں میں بھیجیں۔
انہوں نے بتایا کہ 30 جولائی کو انہوں نے گولی کے ایگزٹ واؤنڈ سے متعلق معلومات طلب کیں اور اس کی تصاویر اور پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی مانگی۔
پولیس سرجن نے ڈاکٹر اسامہ سے ہونے والی گفتگو کے اسکرین شاٹس بھی کمیشن کے سامنے پیش کیے، جس پر کمیشن نے انہیں ریکارڈ کا حصہ بنانے کی ہدایت کی۔
ڈاکٹر سمیعہ نے اس بیان کو مسترد کردیا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران کسی سویپر نے معاونت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ موقع پر موجود شخص لیبارٹری اسسٹنٹ شعیب رشید تھا، جسے اس طریقہ کار کی تربیت حاصل تھی۔
انہوں نے بتایا کہ میڈیکو لیگل افسران کو تربیت اور پروٹوکول فراہم کیے جاتے ہیں، تاہم متعدد ڈاکٹر اس کام میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں لیتے۔
ان کے مطابق 42 میڈیکو لیگل افسران موجود ہیں اور مسئلہ افرادی قوت کی کمی نہیں بلکہ ڈاکٹروں کی عدم دلچسپی ہے۔
کمیشن میں سوالات پر اختلاف
سماعت کے دوران مختصر وقفے کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو کمیشن نے میر رضا علی کے اہلخانہ سے کمرہ چھوڑنے کو کہا کیونکہ پروجیکٹر پر ایسی تصاویر دکھائی جانی تھیں جو ان کے لیے تکلیف دہ ہوسکتی تھیں۔
میر رضا کی بہن علیشبا نے کہا کہ خاندان کارروائی کے دوران موجود رہنا چاہتا ہے۔
بعد ازاں ڈاکٹر سمیعہ نے پروجیکٹر کے ذریعے ڈاکٹر اسامہ سے اپنی گفتگو سے متعلق مواد پیش کرنا شروع کیا۔
اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ ایم ایل او کی کارکردگی سے متعلق سوالات کارروائی سے متعلق ہیں۔
سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے ان سوالات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوالات کمیشن کو خود کرنے چاہئیں، اہلخانہ کے وکیل کو نہیں۔
کمیشن نے اعتراض مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ صوبائی حکومت کو اہلخانہ کے سوالات کرنے پر اعتراض کیوں ہے۔
مزید تحقیقاتی ریکارڈ کمیشن میں پیش
تفتیشی افسر نے بھی کمیشن میں مزید دستاویزات جمع کرائیں، جن میں میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ، اسمارٹ واچ، موبائل فون اور دیگر اشیا سے متعلق فرانزک رپورٹس شامل تھیں۔
گواہوں کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت ریکارڈ کیے گئے مزید بیانات کی نقول بھی کمیشن میں جمع کرائی گئیں۔
تفتیش کاروں نے بتایا کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی میر رضا علی کے آئی فون کو ان لاک کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
تفتیشی ٹیم کے مطابق فرانزک لیبارٹری نے باضابطہ طور پر اپنی رپورٹ میں ڈیوائس تک رسائی حاصل کرنے میں ناکامی سے آگاہ کیا، جس کے بعد میر رضا کا فون اور ایپل واچ تفتیشی ٹیم کو واپس کیے جانے تھے۔
تفتیش کاروں نے بتایا کہ ایپل واچ سے کچھ اسکرین شاٹس اور پیغامات حاصل ہوئے، تاہم ان مواد کو کیس کے حوالے سے اہم قرار نہیں دیا گیا۔
سماعت کا تحریری آرڈرجاری
میررضا کیس کی تحقیقات کےلیےجوڈیشل کمیشن کی سماعت کاتحریری آرڈرجاری کردیا گیا جس کے مطابق میر رضا کے والد ،بہن اورڈی ایس پی سراج لاشاری جوڈیشل کمیشن میں پیش ہوئے،ایس ایچ او ، ہیڈ محرر ذیشان، پولیس سرجن اورسربراہ میڈیکل بورڈبھی پیش ہوئے۔
میڈیکل بورڈ کےسربراہ ڈاکٹر نسیم احمد کو نوٹس جاری ہوا تھا مگرپیش نہیں ہوئے،کمیشن کوآگاہ کیاگیاکہ میڈیکل بورڈ کےسربراہ ڈاکٹر نسیم احمد 30ستمبرتک چھٹیوں پرہیں۔
کمیشن کے مطابق پولیس سرجن کا بیان ریکارڈ کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مداخلت کی کوشش کی،ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی دوران سماعت مداخلت افسوسناک ہے۔
سندھ حکومت نےکمیشن بنانے کی سفارش کی تھی،،جوڈیشل کمیشن نے اعلیٰ ترین لاء آفیسر کی مداخلت پر حیرت کا اظہار کیا۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی مداخلت پر جوڈیشل کمیشن کی سماعت ملتوی کردی گئی،وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کو 10 ستمبر کو طلب کر لیا گیا۔



