اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بارے میں قبل از وقت آگاہ کیا گیا تھا تاہم انہوں نے اس مبینہ وارننگ کو خاطر میں نہ لایا۔
اسرائیلی اخبار ہاآرتص نے اپنی ایک رپورٹ میں، جو اس کے رپورٹرز کی آئندہ شائع ہونے والی کتاب کے اقتباسات پر مبنی ہے، دعویٰ کیا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے 7 اکتوبر کے حملے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ حماس ایک بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
تاہم نیتن یاہو کے دفتر نے اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ’’سراسر جھوٹ‘‘ قرار دیا ہے۔ وزیراعظم آفس نے یہ بھی کہا کہ مذکورہ عرصے کے دوران نیتن یاہو کی اماراتی صدر سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
View this post on Instagram
سابق فوجی کمانڈر اور آئندہ 27 اکتوبر کے انتخابات میں نیتن یاہو کے اہم حریف سمجھے جانے والے گادی آئزن کوٹ نے وزیراعظم پر سکیورٹی کی ناکامیوں کی ذمہ داری سے بچنے کا الزام عائد کیا۔
آئزن کوٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کے حوالے سے ’’درجنوں وارننگ‘‘ موصول ہوئیں لیکن انہوں نے سب کو نظرانداز کیا، اس لیے وہ اس منصب کے لیے نااہل ہیں۔٫
עוד ועוד סימנים מעידים: נתניהו הוביל את ישראל בעיוורון למחדל השבעה באוקטובר.
לפי הפרסום הבוקר, הוא קיבל התרעה מפורשת, ימים לפני הטבח, מנשיא איחוד האמירויות לגבי כוונות סינוואר, אבל לא עדכן את ראשי מערכת הביטחון. מי לא העיר את מי?
סביבתו מהדהדת את תיאוריית הקונספירציה והבגידה… pic.twitter.com/H9UtJFWmzq
— Gadi Eisenkot – גדי איזנקוט (@gadi_eisenkot) September 8, 2026
سابق وزیراعظم اور انتخابات میں امیدوار نفتالی بینیٹ نے بھی نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کو ہونے والے نقصان کا ’’بذات خود اور براہِ راست ذمہ دار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ’’ایک منٹ کے لیے بھی‘‘ اپنے عہدے پر براجمان نہیں رہنا چاہیے۔
ہاآرتص کی رپورٹ کے مطابق حماس کے اس وقت کے سربراہ یحییٰ سنوارنے ایک سابق فلسطینی عہدیدار کو خبردار کیا تھا کہ حماس ایک ’’خوفناک آپریشن‘‘ کی تیاری کر رہی ہے، جسے انہوں نے ’’زلزلہ‘‘ قرار دیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق فلسطینی عہدیدار نے یہ اطلاع ایک اماراتی مشیر تک پہنچائی، جس نے اسے متحدہ عرب امارات کے صدر تک پہنچایا۔ اس کے بعد اماراتی صدر نے مبینہ طور پر نیتن یاہو سے رابطہ کیا۔
متحدہ عرب امارات نے 2020 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کی ثالثی میں ہونے والے ‘ابراہام اکارڈ’ کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
اخبار نے زیادہ تر نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے اس وارننگ کا پُرسکون انداز میں جواب دیا۔
הפרסום הבוקר לפיו נתניהו הוזהר עשרה ימים לפני טבח השבעה באוקטובר על כוונותיו של סינוואר – אמת.
נתניהו נושא באחריות אישית וישירה למחדל שהביא למותם של אלפי ישראלים במשמרת שלו.
ההתעלמות שלו מהאזהרות היא רשלנות פושעת ולכן הוא עושה הכול כדי למנוע הקמת ועדת חקירה ממלכתית שתחשוף את…— Naftali Bennett נפתלי בנט (@naftalibennett) September 8, 2026
نیتن یاہو کی حکومت کئی برسوں سے حماس کے ساتھ ‘اسٹیٹس کو’ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی تھی۔ اس پالیسی کے تحت قطر کے ذریعے غزہ میں مالی معاونت کی فراہمی جاری رہی، جبکہ یہ مفروضہ برقرار رہا کہ حماس اسرائیل کے ساتھ تباہ کن جنگ کے بجائے اپنی بقا کو ترجیح دے گی۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر بڑا حملہ کیا۔ اے ایف پی کی جانب سے اسرائیلی حکومت کے اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کیے گئے تخمینے کے مطابق اس حملے میں 1,221 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حماس کے جنگجو تقریباً 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے، جن میں سے 44 کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ پہلے ہی ہلاک ہو چکے تھے۔
اس حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں غزہ کا بیشتر حصہ تباہ ہو چکا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 73,658 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
