لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان جاری تنازع میں مزید شدت آگئی، ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال اور ان کی بہن سے متعلق نئے دعوے کر دیئے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال کو اعلیٰ تعلیم کے لیے آسٹریلیا منتقل ہونے میں مدد فراہم کی تھی اور بعد ازاں اپنی کمپنی میں ملازمت بھی دی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آسٹریلیا میں قیام کے دوران رمشا اقبال نے ان کے کاروباری شراکت دار کے خلاف ہراسانی کا مقدمہ درج کرایا، جو بعد میں مبینہ طور پر مالی معاملات طے ہونے کے بعد ختم ہو گیا۔
ن لیگی رکن اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ بعد ازاں دونوں بہنوں کی جانب سے ان کے خلاف بھی اسی نوعیت کا طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
ثاقب چدھڑ نے مزید دعویٰ کیا کہ مومنہ اقبال ان کی ازدواجی حیثیت سے مکمل طور پر آگاہ تھیں اور اس کے باوجود ان کے ساتھ دوسری شادی پر رضامند تھیں۔ جبکہ وہ مومنہ اقبال کی شادی سے متعلق نہیں جانتے تھے جس میں انہیں علیحدگی ہو چکی تھی۔
ان کے مطابق اداکارہ کے وکیل کی جانب سے بھاری رقم کا مطالبہ بھی کیا گیا، جبکہ مختلف مواقع پر معاملہ کروڑوں روپے میں طے کرنے کی پیشکش کی گئی۔ ان دعوؤں سے متعلق شواہد بھی ان کے پاس موجود ہیں۔
واضح رہے کہ مومنہ اقبال پہلے ہی ثاقب چدھڑ پر ہراسانی کے الزامات عائد کرچکی ہیں اور معاملہ متعلقہ اداروں تک لے جاچکی ہیں۔
دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات اور مختلف دعوے سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تاہم فریقین کے باہمی الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
دو روز قبل لاہور کی مقامی عدالت میں اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ جہاں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کو بے قصور قرار دے دیا۔
مومنہ اقبال اور ان کے اہلخانہ نے ردعمل دیتے ہوئے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔
عدالت میں پیش ہونے والے تفتیشی افسر نے بتایا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جس نے ازسرنو چھان بین کے بعد اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اس رپورٹ کے مطابق ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا موجودہ مرحلے پر بے قصور پائے گئے ہیں اور فی الحال ان کی گرفتاری درکار نہیں۔
تفتیشی افسر کے اس بیان کی روشنی میں ثاقب چدھڑ نے اپنی عبوری ضمانت کی درخواست خود ہی واپس لے لی جس پر عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کی ضمانت کی درخواستیں نمٹا دیں۔
یاد رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے نئے ڈیجیٹل شواہد پر مومنہ اقبال اور ایم پی اے ثاقب چدھڑ کو دوبارہ نوٹس جاری کیے ہیں اور نئے شواہد سامنے آنے پر ازسرنو تحقیقات کے لیےخصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی بنائی ہے۔
ترجمان این سی سی آئی اے کے مطابق خصوصی ٹیم کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹرعہدے کے افسر کریں گے، ٹیم نئے ڈیجیٹل شواہد، سابقہ ریکارڈ اور دیگر متعلقہ معلومات کا جائزہ لے گی۔


