لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کو دھرنوں کا شوق نہیں، وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے لاہور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے جاری دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج فیصل آباد ڈویژن سے کثیر تعداد میں عوام دھرنے میں موجود ہیں اور حکومت عوام کے ساتھ جو زیادتی کر رہی ہے، ہم اس کے خلاف نکلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں، طلبا اور مزدوروں سے حکومت غنڈہ ٹیکس لے رہی ہے جبکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم لیوی کے نام پر بھتہ ختم کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومتی وفد سے مذاکرات پر کہا کہ آج جماعت اسلامی کی ٹیم نے حکومتی ٹیم کے ساتھ دلیل سے بھرپور مذاکرات کیے۔ حکومتی ٹیم نے مختلف محکموں سے بات چیت کے لیے وقت مانگا ہے جبکہ لیاقت بلوچ نے اپنی تجاویز حکومت کے سامنے پیش کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا کہنا ہے پٹرولیم لیوی عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی طرف سے لگائی گئی ہے اور اسے ختم کرنے سے بین الاقوامی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، تاہم جماعت اسلامی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ غریب پر نہیں بلکہ اشرافیہ پر ٹیکس لگنا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ لگژری گاڑیوں پر ٹیکس لگایا جائے اور غریب عوام کو ریلیف دیا جائے۔ حکومت نے ملک میں سودی نظام نافذ کررکھا ہے اسے بھی ختم ہونا چاہیے۔ اگر حکومت ایک فیصد سود کم کرے تو خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوسکتا ہے، جبکہ 8 ہزار ارب روپے سے زائد رقم قرضوں کی اصل ادائیگی کے بجائے سود کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے۔
انہوں نے مریم نواز اور مراد علی شاہ پر سرکاری تعلیم تباہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں 50 فیصد سے زائد بچے نویں جماعت میں فیل ہوئے ہیں۔ غریب آدمی اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے لیے شدید پریشان ہے، جبکہ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں۔




