پاکستان کی اکیڈمی سلیکشن کمیٹی نے محمد علی ’مو‘ نقوی کی دستاویزی فلم ہینگنگ بائی آ وائر ’Hanging by a Wire‘ کو اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کیٹیگری کے لیے ملک کی نمائندگی کے لیے منتخب کرلیا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی جانب سے کسی دستاویزی فلم کو اکیڈمی ایوارڈز کیلئے ملک کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
پاکستان کا آسکرز سفر
پاکستان نے پہلی مرتبہ 1959 میں اس کیٹیگری میں فلم جمع کرائی تھی تاہم اب تک ملک کی جانب سے بھیجی گئی 13 فلموں میں سے کوئی بھی آسکر نامزدگی حاصل نہیں کرسکی۔
پاکستان کی اب تک کی سب سے نمایاں پیش رفت 2022 میں ہوئی، جب صائم صادق کی فلم ’Joyland‘ آسکر نامزدگیوں کی شارٹ لسٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔
بٹ گرام کیبل کار حادثہ کہانی کا محور
محمد علی ’مو‘ نقوی کی ہدایت کاری میں بننے والی ہینگنگ بائی اے وائر خیبر پختونخوا کے ضلع بٹ گرام میں 2023 میں پیش آنے والے خوفناک کیبل کار حادثے کی کہانی بیان کرتی ہے۔
فلم کی تحریر اور پروڈکشن میں محمد علی نقوی کے ساتھ بلال سامی بھی شامل ہیں۔
اگست 2023 میں پیش آنے والے حادثے میں 6 بچوں سمیت 8 افراد مقامی کیبل کار میں پھنس گئے تھے۔ یہ کیبل کار دریائے جھنگری سے تقریباً 900 فٹ بلندی پر معلق تھی جبکہ نیچے تیز بہاؤ کے ساتھ دریا موجود تھا۔
“This film is a tribute to the ordinary people who became extraordinary when it mattered most. To have Dogwoof bring Hanging by a Wire to UK cinemas means audiences will experience it the way we intended – together, in the dark, holding their breath as a real-life disaster…
— Dogwoof (@Dogwoof) August 18, 2026
مسافر صبح کے وقت کیبل کار میں پھنسے تھے اور انہیں نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن رات گئے تک جاری رہا۔
ابتدائی طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں صرف 2 بچوں کو بچایا جاسکا۔ بعد ازاں ریسکیورز نے ایک ایک کرکے کیبل کار میں موجود باقی افراد کو بحفاظت باہر نکالا اور یوں تمام 8 مسافروں کو بچا لیا گیا۔
یہ کیبل کار علاقے کے بچوں کیلئے دریائے جھنگری عبور کرنے کا واحد ذریعہ تھی کیونکہ وہاں سڑکیں اور پل موجود نہیں تھے۔
’پاکستانی سینما کی صلاحیت دنیا کو دکھانا چاہتا ہوں‘
فلم کے ہدایت کار محمد علی نقوی نے جولائی میں جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے لیے یہ فلم اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستانی سینما کیا کچھ کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ پاکستانی پہاڑوں سے تعلق رکھنے والی کہانی، جسے پاکستانیوں نے خود بیان کیا ہو، ایک بھرپور ایکشن تھرلر ہوسکتی ہے، جو سن ڈانس فلم فیسٹیول کا افتتاح کرسکتی، دنیا کے بڑے فلمی میلوں میں پیش کی جاسکتی اور ہالی ووڈ کے بڑے اسٹوڈیو کی حمایت حاصل کرسکتی ہے۔
محمد علی نقوی کے مطابق پاکستان کی کہانیوں کا اہمیت رکھنے کیلئے چھوٹا یا سنجیدہ ہونا ضروری نہیں اور انہیں امید ہے کہ یہ فلم مزید پاکستانی فلموں کیلئے دروازے کھولے گی۔
فلم کی عالمی سطح پر نمائش
’ہینگنگب بائی اے وار‘ پاکستان، امریکا اور برطانیہ کی ٹیموں کی مشترکہ پروڈکشن ہے جبکہ فلم کی تیاری کے عمل میں ہالی ووڈ کے بڑے ادارے یونیورس پکچرس کانٹینٹ گروپ بھی شامل رہا ہے۔
فلم نے عالمی فلمی میلوں میں بھی کامیاب سفر کیا ہے۔ فلم کا ورلڈ پریمیئر رواں سال سن ڈانس فلم فیسٹیول کے پہلے روز ہوا، جبکہ اسے سڈنی، سیئٹل اور نیویارک کے ٹریبیوکا فلم فیسٹیول میں بھی پیش کیا گیا۔
