نیپال نے حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے بھارت، چین اور امریکا سے معاوضہ دینے کا مطالبہ کردیا۔
نیپال نے اقوام متحدہ کے ‘لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ’ سے بھی مالی معاونت طلب کر لی ہے جبکہ وزیراعظم بالیندر ’بالین‘ شاہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھانے کے لیے نیویارک جا سکتے ہیں۔
نیپال نے چین، بھارت اور امریکا کو دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں کے سب سے بڑے اخراج کنندگان میں شامل قرار دیتے ہوئے صوبہ باگمتی کے کئی اضلاع میں تباہی مچانے والے حالیہ سیلاب کے لیے موسمیاتی معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سیلاب میں کم از کم11 سو 27 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 3 ہزار 900 افراد لاپتا ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ سیلاب نیپال اور چین کی سرحد کے قریب چٹانوں اور برف کے ایک بڑے تودے کے گرنے کے بعد آیا۔ کھٹمنڈو اس معاملے کو اتنی اہمیت دے رہا ہے کہ وہ معاوضے کے مطالبے کے لیے وزیراعظم بالیندر ’بالین‘ شاہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
بھارتی خبر رساں ادارے انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق نیپال کے وزیر خارجہ ششیر کھنال نے کہا کہ ان تینوں ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کمزور ممالک کو معاوضہ دیں جو ایسی ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتائج بھگت رہے ہیں، حالانکہ ان تبدیلیوں کا سبب بننے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ان ممالک کا حصہ انتہائی کم ہے۔
کھٹمنڈو نے فوری مالی امداد کے لیے اقوام متحدہ کے تحت قائم فنڈ فار ریسپانڈنگ ٹو لاس اینڈ ڈیمیج سے باضابطہ رابطہ بھی کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق نیپال بین الاقوامی فورمز پر اس تباہی اور موسمیاتی انصاف کے مطالبے کو بھی اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے۔
وزیر خارجہ ششیر کھنال نے ‘کانتی پور ٹی وی’ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ “ہم اپنی سفارتی حکمت عملی کو امداد سے انصاف اور معاوضے کی جانب منتقل کر رہے ہیں۔”
26 اگست کو بھوٹیکوشی میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے نیپال کے رسووا، نوواکوت اور دھادنگ اضلاع کے علاقوں کو بری طرح متاثر کیا۔ گھروں، سڑکوں، پلوں اور پن بجلی کے منصوبوں کو نقصان پہنچا جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔ نیپال نے اس تباہی کو ’ہمالیائی سونامی‘ قرار دیا ہے۔
وزیر خزانہ سوارنیم واگلے نے گزشتہ ہفتے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو یہ بات بتائی تھی کہ نیپال کو سیلاب سے تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے لیے 4 سے 5 ارب ڈالر درکار ہو سکتے ہیں، جو اس کی مجموعی معیشت کا تقریباً 10 فیصد بنتے ہیں۔
اپنے مطالبے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نیپالی وزیراعظم بالین شاہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جا سکتے ہیں۔ ’دی کٹھمنڈو پوسٹ‘ کے مطابق اس تجویز پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ بالین شاہ خود رسووا کے سیلاب کی تباہ کاریوں کو اجاگر کریں اور موسمیاتی انصاف اور معاوضے کا مطالبہ کریں۔
جنرل اسمبلی کا اجلاس 8 ستمبر سے شروع ہوگا جبکہ ڈسکشن سیشن ستمبر کے تیسرے اور چوتھے ہفتے میں ہوگا۔
سیلاب کا معاوضہ خیرات نہیں، انصاف ہے، نیپالی وزیرخارجہ
نیپال کے وزیر خارجہ ششیر کھنال نے کانتی پور ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ “یہ خیرات کا معاملہ نہیں بلکہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔”
کھنال نے چین، امریکا اور بھارت کو موجودہ دور میں دنیا کے تین سب سے بڑے گرین ہاؤس گیس اخراج کنندگان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نیپال جیسے ممالک کو معاوضہ دیں۔
یورپی کمیشن کے 2024 کے تازہ ترین تخمینوں کے مطابق چین، امریکا اور بھارت مجموعی طور پر گرین ہاؤس گیسوں کے تین سب سے بڑے اخراج کنندگان ہیں۔


